جنگل کی چڑیل


مناہل کا آج کالج میں پہلا دن تھا اس لئے وہ کافی نروس تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کس سے اپنی کلاس کے بارے میں پوچھے وہ ابھی یہی سوچھ رہی تھی تب ہی اسے محسوس ہوا کوئی اسے دیکھ رہا ہے اس نے اپنے سامنے دیکھا تو ایک لڑکا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا وہ اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر مسکرایا ۔
ہیلو میرا نام آفتاب ہے
مجھے لگتا ہے آپ کا بھی آج کالج میں پہلا دن ہے
ویسے آپ کا نام کیا ہے ؟
میرا نام مناہل ہے
کیا آپ مجھے میری کلاس روم دیکھا سکتے ہیں مناہل نے کہا ۔
جی ضرور آئیے میرے ساتھ یہ کہہ کر آفتاب آگے چل پڑا اور مناہل اس کے پیچھے پیچھے چل دی ۔
مناہل سوچھ رہی تھی اسے آفتاب کے ساتھ نہیں آنا چاہئے تھا ابھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی جب آفتاب نے اسے کہا لگتا ہے ہماری کلاس آگئی ۔
مناہل نے اس کی طرف دیکھا اور سوالیاں نظروں سے اسے دیکھا ہماری کلاس ؟
جی میں بھی فرسٹ ایئر میں ہوں اور میرا بھی آج کالج میں پہلا دن ہے
مناہل نے کلاس میں داخل ہوتے ہی سکون کا سانس لیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی اور اس کے ساتھ والی سیٹ پر آفتاب بیٹھ گیا ۔
کچھ دن یونہی چلتا رہا مناہل کی بھی کافی فرنڈ بن گئی تھی اور آفتاب نے بھی کافی دوست بنا لیئے تھے ۔
آفتاب کافی خوبصورت لڑکا تھا اور اچھے اخلاق کا مالک تھا اس لئے کالج کی کافی لڑکیاں اس کی دیوانی ہو گئی تھی
پر آفتاب صرف مناہل کو پسند کرنے لگا تھا ۔
وہ اپنے دل کی بات مناہل کو بتانا چاہتا تھا پر اسے مناہل سے بات کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆

مناہل لائیبریری میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی تب ہی اسے یاد آیا کہ اس کی دوست کنٹین میں اس کا انتظار کر رہی ہے اس نے کتابیں اٹھائی اور باہر آگئی
تب ہی سامنے سے آتے آفتاب سے ٹکرا گئی
اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی آفتاب نے اسے تھام لیا دونوں کی نظریں ملی اور وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ۔ مناہل پیچھے ہٹی اور اپنی کتابیں اٹھانے کے لئے جکی تو دونوں کے ہاتھ ٹکرائے تو مناہل کے چہرے پر پریشانی کے اصار دیکھ کر آفتاب فورا بولا سوری میں جلدی میں تھا۔
ہم دونوں ہی جلدی میں تھے غلطی ہم دونوں کی ہے یہ کہہ کر مناہل آگے بڑھ گئی اور آفتاب اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔


☆☆☆☆☆☆

loading...


آفتاب کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ مناہل سے کس طرح کہے کہ وہ اسے پیار کرتا ہے اس سے شادی کرنا چاہتا ہے اس کے بنا جی نہیں سکتا ۔
اس نے سوچ لیا تھا اب جو بھی ہو وہ اپنے دل کی بات مناہل کو بتائے اور وہ اچھے موقع کی تلاش میں تھا
کچھ ہی دن بعد اس کو وہ موقع مل ہی گیا اس نے دیکھا مناہل گارڈن میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی آفتاب اس کے پاس گیا اور بولا کیا میں آپ کے پاس بیٹھ سکتا ہوں ۔
مناہل نے چونک کر آفتاب کو دیکھا اور کہا بیٹھ جاؤ ۔
آفتاب کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ گھبرا گئی تھی ۔
اس نے آفتاب کی طرف دیکھا اور بولی جی آپ کو کوئی بات کرنی ہے ؟
آفتاب نے اس کی طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا
جی کہو میں سن رہی ہوں
آفتاب کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کس طرح اپنے دل کی بات کرے ۔
اس نے ٹھنڈا سانس لیا اور بولنا شروع کر دیا
مناہل آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہو میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں مجھے پتا ہے یہ وقت مناسب نہیں ہے ایسی بات کرنے کا پر سچ تو یہ ہے مجھے آپ سے پیار ہو گیا ہے اور آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔
مناہل نے چونک کر اس کی طرف دیکھا جیسے سوچ رہی ہو اتنی بڑی بات کیسے اس نے اتنی آسانی سے کہہ دی ۔
دل میں وہ بھی بہت خوش تھی اس کو بھی آفتاب اچھا لگتا تھا پر اس نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اس طرح آ کر اپنی محبت کا اظہار کرے گا ۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے پر آفتاب میرے گھر والے نہیں مانے گے ہمارے ہاں خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے
آفتاب مناہل کی بات سن کر پریشان ہو گیا اور کچھ دیر سوچ کر بولا کیوں نہ ہم کورٹ میرج کر لیں ۔
مناہل اس کی بات سن کر گھبرا گئی نہیں یہ سہی نہیں ہے ۔۔
آفتاب فورا بولا اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں ہے ۔ مناہل اگر تم بھی مجھ سے پیار کرتی ہو تو تم کو میرا ساتھ دینا ہو گا اور کورٹ میرج کرنی ہو گی ۔
مناہل نے کچھ دیر سوچا اور پھر کورٹ میرج کرنے کی حامی بھر لی ۔
آفتاب نے اسے بتایا کے کورٹ میرج کرنے کے بعد وہ دوسرے شہر چلے جائے گے وہاں کچھ دن رہے گے جب یہاں کا ماحول نارمل ہو گیا تو واپس آجائے گے تو اپنے گھر والوں سے معافی مانگ لیں گے ۔
مجھے یقین ہے وہ ہمیں معاف کر دیں گے ۔
مناہل نے ہاں میں سر ہلایا اور جانے کے لیئے کھڑی ہو گئی ۔


☆☆☆☆☆☆

مناہل سارے راستے یہی سوچ رہی تھی جو وہ کرنے جا رہی ہے کیا وہ سہی ہے کیا وہ اپنے گھر والوں سے دور رہ پائے گی کیا اس کے گھر والے اس کو اس غلطی پر معاف کر پائیں گے ۔ پھر اس کو آفتاب کی بات یاد آئی کہ کچھ دن دوسرے شہر رہے گے اور واپس آ کر وہ گھر والوں سے معافی مانگ لیں گے ۔
وہ اس کی بات یاد کر کے دل میں ہی خوشی محسوس کر رہی تھی ۔
کتنا مشکل ہوتا ہے کسی لڑکی کے لئے یہ فیصلہ کرنا ۔
اس سے اگلے دن وہ جلدی سے کالج کے لئے تیار ہوئی اور ایک بلیک کلر کا فاراک نکلا اور اسے اپنے بیگ میں رکھ لیا
جبھی اس کی امی کمرے میں آئی اور اس سے پوچھا بیٹھا یہ فاراک کیوں ساتھ لے جارہی ہو ۔
اس نے جلدی سے بولا امی آج کالج میں پارٹی ہے اس لئے
سبھی کالج کی لڑکیاں کپڑے ساتھ لے کر آئے گی
اس نے امی نے بات سن کر بس اتنا ہی کہا اچھا پر گھر جلدی آجانا ۔
جی امی جلدی آجاؤں گی ۔


☆☆☆☆☆☆

کالج سے تھوڑی دوری پر ہی آفتاب گھاڑی میں بیٹھا اس کا ویٹ کر رہا تھا اور اس کا انتظار جلدی ہی ختم ہو گیا جب اس نے مناہل کو سامنے آتے دیکھا ۔
مناہل جلدی سے گھاڑی میں آ کر بیٹھ گئی اور آفتاب کو چلنے کا کہاں آفتاب نے گھاڑی سٹارٹ کی اور اپنی منزل کی جانب رواں ہو گئے آنے والے وقت سے بے خبر وہ اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے تھے ۔
شام کو وہ دونوں مولوی کے پاس گئے اور مولوی نے ان دونوں کا نکاح پڑھوا دیا ۔ آفتاب نے یہ سب انتظام پہلے سے کر رکھا تھا ملوی شہر سے باہر تھا اسے آنے میں شام ہو گئی تھی تبھی ان دونوں کو شام تک کا انتظار کرنا پڑا تھا ۔
نکاح کے بعد وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے اور دوسرے شہر جانے کے لئے روانہ ہو گئے مناہل نے آفتاب سے بولا رات ہونے والی ہے کیا یہ مناسب وقت ہے اس ٹائم جانے کا ۔
آفتاب نے پیار سے مناہل کی طرف دیکھا اور بولا گھبراو مت میں ہوں نہ آپ کے ۔
مناہل مسکرا دی ۔

☆☆☆☆☆☆
loading...


رات کافی ہو گئی تھی اور گھاڑی اپنی منزل کی طرف رواں تھی مناہل ڈر رہی تھی رات کا وقت اور سنسان جگہ ہر طرف گنے درخت ہی درخت نظر آ رہے تھے مناہل کو یہ سمجھے میں زرا بھی دیر نہیں لگی کہ یہ جنگل ہے
مناہل کے چہرے پہ خوف صاف نظر آرہا تھا اس نے آفتاب کی طرف دیکھا اور پوچھا ہم کب تک یہاں سے نکل جائے گے ۔
آفتاب نے اس کی طرف دیکھا اور کہا بس تھوڑی دیر میں ہم جنگل پار کر لیں گے ۔
مناہل نے گھبراتے ہوئے پوچھا کیا کوئی اور راستہ نہیں تھا جہاں سے دوسرے شہر جا سکتے ۔
باکل تھا پر ہمیں جلدی پہنچنا تھا اس لئے اس راستے کا انتخاب کیا ۔
ابھی آفتاب نے اپنی بات مکمل کی ہی تھی جب گھاڑی کچو کچو کرتی بند ہو گئی ۔
مناہل نے آفتاب کی طرف سوالیاں نظروں سے
وہ مناہل کو تسلی دے رہا تھا کچھ نہیں ہوا لگتا ہے گھاڑی گرم ہو گئی ہے اس لئے بند ہو گئی ہے میں دیکھتا ہوں اس نے گھاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر آگیا مناہل بھی اس کے ساتھ ہی گھاڑی کے باہر آگئی ۔
مناہل بہت ڈر گئی تھی اس نے ایک بار پھر آفتاب سے پوچھا یہ کب تک ٹھیک ہو جائے گی اور ہم کب تک اس جنگل سے نکل جائے گے ۔
آفتاب نے گھاڑی کے ریڈی ایٹر کو دیکھتے ہوئے بولا بس تھوڑی دیر میں ہم نکل جائے گے مجھے تھوڑا پانی چاہئے ہو گا
میں ادھر اودھر پانی دیکھتا ہوں تب تک تم گھاڑی کے اندر ہی بیٹھی رہنا ۔ اور وہ دیکھوں سامنے بورڈ لگا ہے شہر 60 کلو میٹر دور بس ہم 60 کلو میٹر کی دوری پہ ہیں جلدی ہی شہر پہنچ جائیں گے۔

☆☆☆☆☆☆
مناہل گھاڑی میں بیٹھ جاتی ہے اور گھاڑی کے باہر ادھر اودھر نظریں دوڑاتی ہے اس نے ایک درخت کے نیچھے  باربی ڈول پڑی نظر آتی ہے وہ جلدی سے گھاڑی سے نیچھے اترتی ہے اور اس ڈول کو اٹھا لیتی ہے اتنی دیر میں آفتاب بھی واپس آجاتا ہے وہ ڈبے سے گھاڑی میں پانی ڈال کر مناہل کی طرف دیکھتا ہے تو اس کے ہاتھ سے ڈول پکڑ کر زور سے درخت پہ دے مارتا ہے ۔
مناہل سوالیاں نظروں سے اس کی طرف دیکھتی ہے
مناہل یہ جنگل ہے یہاں کسی بھی چیز کو مت اٹھاو ہمارے لیئے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ۔
پر وہ دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ انہوں نے اپنے لئے خطرہ پیدا کر لیا ہے ۔
جلدی گھاڑی میں بیٹھو ہمیں نکلنا ہو گا یہاں سے
دونوں گھاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل کی طرف رواں تھے
کہ مناہل کی نظر درخت پہ پڑی مناہل گھبرا گئی فورا آفتاب سے کہاں اس درخت پہ کچھ تھا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
آفتاب نے جلدی سے بولا مناہل یہ آپ کا وہم ہے کچھ نہیں تھا وہاں ۔
نہیں میرا وہم نہیں ہے میں نے وہاں عجیب سی مخلوق دیکھی ۔ آفتاب اس کو تسلی کے دو بول بولا اور گھاڑی چلانے میں مصروف ہو گیا ۔
ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ گھاڑی کے سامنے سے اوڑتی ہوئی کوئی مخلوق گزری وہ جسامت میں بہت بڑی تھی اس کے دو پر بھی تھے ۔
آفتاب نے فورا بریک لگا دی اور ایک لمبا سانس لیا
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز کچھ کرو مناہل نے گھبراتے ہوئے آفتاب سے کہا ۔
آفتاب نے ایک بار پھر گھاڑی سٹارٹ کی اور چل پڑے وہاں سے مناہل جو بہت گھبرائی ہوئی تھی اس نے آفتاب کو غصے میں کہا گھاڑی تیز چلو ہم کب سے اسی جگہ پہ ہے اور ساتھ ہی رونا شروع کر دیا ۔
ارے چلا تو رہا ہوں اب اس سے تیز میں نہیں چلا سکتا
آپ خاموش ہو کر بیٹھو گی پلیز تاکہ میں ڈرائیو کر سکو سکوں ۔
مناہل نے اس کی طرف دیکھا اور خاموش ہو گئی ۔
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ آفتاب نے گھاڑی روک دی ۔
اب کیا ہوا گاڑی کیوں روک دی ۔
آپ نے ٹھیک کہاں تھا ہم اسی جگہ پہ ہی ہیں یہ روڑ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔
آپ کو کیسے پتا ؟
وہ دیکھوں سامنے وہی بورڈ لگا ہے جو ہم نے 30،35 منٹ پہلے دیکھا تھا ۔
اتنی ڈرائیو کرنے کے بعد بھی ہم وہی کھڑے ہیں ۔
مناہل نے جب بورڈ دیکھا تو رونا شروع کر دیا
وہ سوچ رہی تھی اس کو یہ سب نہیں کرنا چاہئے تھا نا وہ گھر سے بھاگتی نہ وہ اس کے ساتھ آتی نہ یہ سب ہوتا اس نے بہت غلط کیا اس لئے اس کے ساتھ غلط ہو رہا ہے۔
وہ بہت پچھتا رہی تھی ۔


☆☆☆☆☆☆

تبھی آفتاب نے اس کو تسلی دی فکر نہ کرو ہم یہاں سے جلدی ہی نکل جائے گے ۔
اس نے جلدی سے گھاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی پر اب کی بار گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی اس نے دو تین بار چابی گھمائی پر ہر بار ناکام کوشش رہی اس کی ۔
اس نے مناہل کی طرف دیکھا اور کہا چلو گاڑی سے اترو ہمیں کوئی اور راستہنکالنا ہو گا یہاں سے نکلنے کا ۔
مناہل جو بہت ڈری ہوئی تھی وہ جلدی میں گاڑی سے اتری
جیسے ہی دو دونوں گاڑی سے باہر آئے تو ان کے سامنے ایک دم سفید دھواں سا نمودار ہوا مناہل بہت ڈر گئی تھی یہ سب کیا ہو رہا ہے اب اس نے بہت ذور سے آفتاب کا بازو پکڑ رکھا تھا اور کے پیچھے کندھے کے پیچھے ہو کر سامنے کا منظر دیکھنے لگی۔
دھواں ختم ہوتے ہی اس کے پیچھے ایک بہت خوفناک چڑیل کھڑی تھی ۔
جس کے بال زمین کو چھو رہے تھے چہرہ کالا سیاہ جلا ہوا تھا آنکھیں سرخ انگارہ تھی ۔ ہاتھوں پہ بڑے بڑے ناخن نکلے ہوئے تھے اور پاوں پیچھے کی جانب مڑے ہوئے تھے۔
اس کے منہ سے قہقے جاری ہونے لگے ۔
آفتاب نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کون ہو تم کیا چاہتی ہو ہمارے پیچھے کیوں پڑی ہو جانے دو ہمیں پلیز۔
اس نے ایک بار پھر قہقہ لگایا اور غصے سے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
موت مجھے تم دونوں کی موت چاہئے
مناہل نے بہت ہمت کر کے بہت آہستہ سے بولی ہم نے آپ کا کیا بگڑا ہے۔
تم نے میرے بچے کو مارا ہے اس نے آپ کا کیا بگڑا تھا چڑیل غصے میں بولی تھی میں تم دونوں کو ختم کر دوں گی تم دونوں جہاں سے نکل نہیں سکتے یہ جنگل میرا ہے
چاہے تو کوشش کر کے دیکھ لو یہ بات کہتے ہی چڑیل غائب ہو گئی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے اس کے بچے کو مارا ہم نے یہ کیسے ہو گیا مناہل نے آہستہ سے سرگوشی کی تو آفتاب آپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا اس کو سب کچھ یاد آگیا تھا اس نے جو کچھ کیا تھا ۔
مناہل اس کی طرف سوالیاں نظروں سے دیکھ رہی تھی
جب آفتاب نے آہستہ کہا وہ باربی ڈول
یہ سنتے ہی مناہل نے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا یا اللہ ہم کس مشکل میں پھنس گئے ۔
آفتاب نے مناہل کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے دوڑ لگا دی
دوڑتے ہوئے ان کے سامنے کالے رنگ کا کتا آگیا جس کی آنکھیں لال سرخ تھی جیسے آنکھوں سے آگ برس رہی ہو
انہوں نے جلدی سے اپنا راستہ بدلا اور پھر بھاگنا شروع کر دیا ۔ دوڑتے ہوئے مناہل کا پاوں نیچے پڑی لکڑی سے ٹکریا وہ گر پڑی اور درد سے اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی ۔
آفتاب مناہل کو اٹھانے لگا تا کہ وہ اپنے پاوں پہ کھڑی ہو سکے وہ اتنی بری طرح گری تھی درد کہ وجہ سے وہ اپنے پاوں پہ کھڑی نہیں ہو پا رہی تھی۔
اسی وقت زمین پہ بکھرے درختوں کے سوکھے پتوں کو چیرتی ہوئی رسی آفتاب کے پاوں کے گرد بہت مضبوطی سے بندھ گی اور دیکھتے ہی دیکھتے آفتاب ایک درخت کے ساتھ الٹا لٹک گیا ۔
اور چڑیل اس کے سامنے کھڑی غصے کہ عالم میں اسے دیکھ رہی تھی ۔
میں نے کہا تھا نہ تم لوگ یہاں سے بھاگ نہیں سکتے اب دیکھو میں تمہارے ساتھ کیا کرتی ہوں یہ کہتے ہی چڑیل نے اپنے ہاتھ آفتاب کے سینے پہ رکھے اور سینے کے اندر پست کر دیئے اور اس کا دل نکال کر کھانا شروع کر دیا آفتاب جلدی ہی موت کی آغوش میں چلا گیا تھا
مناہل یہ سب منظر دیکھ رہی تھی اس کو اپنی موت صاف نظر آرہی تھی خوف اور ڈر کے مارے اس کے منہ سے کوئی الفاظ بھی نہیں نکل رہا تھا وہ جلدی سے اٹھی درد کی پرواہ کیئے بغیر اور وہاں سے دوڑنا شروع کر دیا
وہ اتنی تیزی سے دوڑ رہی تھی
وہ درخت سے لٹکتی ٹہنیوں سے ٹکرا رہی تھی اس کو اپنی موت صاف نظر آ رہی تھی وہ تھک ہار کر ایک درخت کے نیچے اوندے منہ گر پڑی ۔
اس نے محسوص کیا کہ اس کے سامنے کوئی کھڑا ہے اس نے منہ اوپر کی جانب کر کے دیکھا تو چڑیل اس کے سامنے کھڑی تھی ۔
وہ پہلے سے بھی زیادہ بھیانک ہو گئی تھی ۔
بال زمین کو چھو رہے تھے آنکھیں آگ کی طرح لال سرخ ہو گئی تھی اور دو لمبے لمبے دانت بھی باہر نکل آئے تھے ۔
اس کے بال حرکت کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے بال مناہل کی گردن کے گرد لپٹ گئے
چڑیل نے اپنی جادوئی طاقت سے مناہل کو ہوا میں اٹھا لیا
اور بھیانک سے بھیانک قہقے لگانے لگی۔
مناہل کا سانس بند ہو رہا تھا


☆☆☆☆☆☆

اس نے منت والے لہجے میں چڑیل سے درخواست کی پلیز مجھے چھوڑ دو مجھ سے غلطی ہو گئی خدا کے لئے مجھے معاف کر دو میں مرنا نہیں چاہتی۔
چڑیل نے ایک قہقہ لگایا اور اس کو زمین پہ بڑی زور سے پٹخا مناہل درد کی وجہ سے چلا رہی تھی ۔
وہ اپنی موت کا انتظار کر رہی تھی اس کو یقین ہو گیا تھا اس کی موت ابھی یقینی ہے وہ بچ نہیں سکتی ۔
چڑیل اس کے قریب آئی اور اس نے اپنے دانت اس کی گردن میں گارڈ دیئے اور خون پینا شروع کر دیا مناہل آہستہ آہستہ موت کی آغوش میں جا رہی تھی ۔
اس نے چڑیل سے اپنا آپ چھڑانے کے لئے ہاتھ پاوں تو بہت مارے پر ناکام رہی
چڑیل اس کا خون پی چکی تھی اور مناہل موت کی آغوش میں جا چکی تھی ۔


☆☆☆☆☆☆

صبح وہاں سے کسی شخص کا گزر ہوا تو اس نے دیکھا گھاڑی کو آگ لگی ہوئی ہے
اس نے جلدی سے قریبی لوگوں کو بتایا جا کر ۔
سب لوگ جنگل میں آئے اور آتے ہی پولیس کو اطلاع دی گئی۔
کچھ دیر میں پولیس بھی وہاں پہنچ چکی تھی ۔
پولیس نے سارے جیزے لینے کے بعد لوگوں کو بتایا کہ یہ ایکسیڈنٹ ہے لاشیں پوری طرح سے جل چکی ہیں ۔
چڑیل درخت پہ بیٹھی سب کچھ دیکھ رہی تھی اس نے ایک قہقہ لگایا اور غائب ہو گئی ۔
وہ اپنا مقصد پورا کر چکی تھی ۔
وہ نئے شکار کے انتظار میں اب کونسا جال بچھانے جا رہی تھی یہ تو وہی جانتی تھی ۔


ختم شد
☆☆☆☆☆☆
loading...


Post a Comment

0 Comments