چینجلینگ قسط نمیر دو



"جی پہلا قتل۔۔۔۔"
اس نے میری طرف غور سے دیکھا۔
"ہم نے اصل بات چھپا لی۔ابا جی کی ڈیتھ کو ایکسیڈنٹ ظاہر کیا۔اندر ہی اندر ہم سب شدید دباو کا شکار تھے کہ یہ کیا ہورہا تھا۔کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ جو بھی تھا وہ اکلوتا بیٹا تھا۔بہت سوچ بچار کے بعد میں ایک بار پھر اسے مختلف سائکیاٹرسٹس کے پاس لے گیا۔مگر کہیں بھی کوئی واضح بات سامنے نا آسکی۔کوئی ذہنی دباو کہتا،کوئی بائی پولر کہتا تو کوئی سپلٹ کہتا۔تاہم محتاط رہتے ہوئے ہم نے سب کچھ وقت پر چھوڑ دیا۔مہروز کی حالت ویسی ہی رہی۔ہم کوشش کرنے لگے کہ اس کی مرضی کے خلاف کوئی بات نا ہو۔مگر ہر جگہ ایسا نہیں ہوسکتا تھا۔ایک دن میں آفس بیٹھا تھا جب اس کے سکول سے کال آئی۔مجھے ایمر جینسی میں بلایا گیا تھا۔میں دوڑتا بھاگتا سکول پہنچا تو معلوم ہوا اس نے سینئیر کلاس کے ایک بچے پر حملہ کیا تھا۔وہ بچہ اسے تنگ کررہا تھا، جس کے بعد مہروز نے اپنی پینسل سے اس کی آنکھ پھوڑ دی۔معاملہ بڑھ سکتا تھا، اس لیئے میں فوری طور پر مہروز کو گھر لے آیا۔متاثرہ بچے کے والدین سے بھی ملا اور معذرت کی۔ان لوگوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے معذرت قبول کرلی تھی۔"

بیشتر اس کے کہ وہ آگے بولتا میں نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اسے اشارے سے روکا۔
"آپ کو کیا لگتا تھا کہ مہروز اس قدر متشدد کیوں ہوگیا تھا؟"
"گھر والے سمجھتے تھے کہ جنات کا سایہ تھا۔مجھے اس بات پریقین نا تھا۔جنات کے وجود کو تو مانتا تھا البتہ یہ بات طے تھی کہ جنات کسی انسان پر اس طرح اثر انداز نہیں ہوسکتے تھے۔"
"پھر آپ کیا سوچ رہے تھے؟"

"آگے چل کر بتاتا ہوں۔۔۔مہروز کو اس سکول سے نکال کر کچھ روز وقفے کے بعد ایک اور سکول میں داخل کروا دیا۔دن گزرنے لگے۔ایک رات پیاس کی وجہ سے میری آنکھ کھلی۔پانی پینے کچن تک گیا۔جیسے ہی لائٹ آن کی سامنے کا منظر دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔مہروز فرش پر بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ خون آلود تھے۔ہمارا چھوٹا سا پالتو کتا مردہ حالت میں اس کے ساتھ ہی ہڑا تھا۔اس کے جسم پر چھریوں کے نشان تھے۔میں کسی طرح بہلا پھسلا کر مہروز کے ہاتھ دھلوا کے اسے اس کے کمرے تک چھوڑ آیا اور باہر سے کنڈی لگادی۔

میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ماں یہ واقع جان لے۔سو سی وقت کتے کے مردہ جسم کو ٹھکانے لگایا اور اچھی طرح فرش صاف کیا۔اب مجھے کوئی حتمی فیصلہ کرنا تھا۔ان حالات میں ہم سب کی جان خطرے میں تھی۔سو میں مناسب وقت کے انتظار میں تھا۔جلد ہی وہ وقت بھی آگیا، جب مہروز نے ایک بار پھر اپنی ماں پر حملہ کیا۔وہ بال بال بچی۔دوسرے دن ہی سب کو اعتماد میں لینے کے بعد میں مہروز کو ملک کے ایک مشہور مینٹل ہاسپیٹل لے گیا۔جہاں ایک نوجوان مگر مشہور ماہرِ نفسیات سے اپوائٹمنٹ لے رکھی تھی۔میں نے شروع سے لے کر آخر تک اسے ایک ایک بات بتا دی۔مکمل کہانی سننے کے بعد اس نے مہروز کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس کے مطابق نفسیاتی طور پر بظاہر تو وہ نارمل تھا۔مگر جو حالات وہ سن چکا تھا اس کے بعد اس نے مہروز کو ایک ہفتے کے لیئے ایڈمٹ کرانے کا کہا۔میں خود یہیں چاہتا تھا، سو کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میں مہروز کو وہیں چھوڑ گھر واپس آگیا۔سوچا ہردوسرے دن چکر لگا آوں گا۔"


یہ بھی پڑھیں:

اس نے ایک بار پھر پانی کا گلاس اٹھایا اور غٹاغٹ گلاس خالی کردیا۔پھر تھوڑی دیر اِدھر اُدھر گھور کے دیکھا اور دوبارہ گویا ہوا:
"اس رات کچھ ایسا ہوا جس کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ مہروز کے ساتھ نفسیاتی مسلہ نہیں کوئی اور بات تھی۔شام کو گھر پہنچتے ہی کھانا وغیرہ کھا کر میں جلد ہی سوگیا۔آدھی رات کا وقت تھا جب میری بیوی نے بوکھلائے انداز میں مجھے جگایا۔وہ کافی خوفزدہ تھی۔اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔پھر دبے قدموں کمرے کے باہر کی طرف چلی۔میں حیران پریشان اس کے پیچھے چل دیا۔۔۔۔اس رات جو منظر میری آنکھوں نے دیکھا وہ ہر حوالے سے ناقابلِ یقین تھا۔مہروز جسے میں میلوں دور ہسپتال میں داخل کروا آیا تھا، ٹی۔وی لاونج میں بیٹھا ٹی۔وی دیکھ رہا تھا۔میں تھوڑی دیر صدمے کی حالت میں چلا گیا۔

پھر بیوی کو اشارہ کیا کہ وہ چپ چاپ کمرے میں چلی آئے۔باقی رات ہم دونوں نے جاگ کے گزاری۔صبح ہوتے ہی میں نے ہسپتال فون کیا، مگر فون مسلسل بزی جارہا تھا۔سو مجبوراً میں خود اس طرف روانہ ہوگیا۔ہسپتال پہنچا تو وہاں افراتفری کا عالم تھا۔پولیس موجود تھی،عملہ سارا باہر آیا ہوا تھا۔میں نے ساتھ کھڑے ایک شخص سے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ رات ہسپتال کے دو گارڈز کو بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ان کے گلے کٹے ہوئے ملے۔میرے ہوش اڑ گئے۔تبھی کسی نے ہیچھے سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔وہ وہیں نوجوان ڈاکٹر تھا۔اس نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کا کہا۔ہم ہسپتال سے منسلک ایک ہوٹل میں آگئے۔ایک کونے میں بیٹھنے کے بعد ڈاکٹر نے فوراً مجھے کہا کہ جو جو وہ پوچھے گا میں سوچ سمجھ کراس کا جواب دوں۔میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے پوچھا:

"مہروز آپ کا اپنا بیٹا ہے یا ایڈاپٹڈ ہے؟"
"میرا اپنا ہی بیٹا ہے۔"
"کبھی۔۔۔ایسا ہوا کہ وہ گم ہوا ہو؟؟ یا ایسا کوئی واقع ہوا ہو؟؟؟"
"نہیں کچھ خاص تو مجھے یاد نہیں آرہا۔"
"تو یاد کریں یا اپنے گھر والوں سے پوچھیں۔یہ انتہائی ضروری ہے۔"
میں نے اسی وقت اپنی بیوی کو کال کی۔پھر ماں کو فون کیا۔
"ہاں ایسا ہوا تھا۔ماں جی بتارہی تھیں کہ ڈیڑھ ایک سال پہلے وہ چند گھنٹوں کے لیئے غائب تو ہوا تھا مگر پھر گھر کے پچھلے حصے سے ملا۔"
"مطلب میرا شک صحیح تھا۔۔۔۔اب جو بات میں آپ کو بتانے جارہا ہوں اسے صبروتحمل سے سنیں۔"
میں نے چونک کر ڈاکٹر کو دیکھا۔پھر بولا:
"جی فرمایئے؟"
"وہ مہروز جو غائب ہوا تھا، آپ کا بیٹا تھا۔لیکن یہ مہروز جو واپس مل گیا تھا آپ کا بیٹا نہیں ہے۔"
ڈاکٹر کی بات پر مجھے ایک شدید جھٹکا لگا۔

"کیا مطلب؟؟؟؟ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟؟؟"
"بہروز صاحب حقیقت یہ ہے کہ آپ کا اپنا بیٹا اسی دن غائب ہوگیا تھا۔اس دن سے آج تک جو آہ کے ساتھ رہ رہا ہے وہ Changeling ہے۔دوسرے لفظوں میں آپ اسے گھس بیٹھیا یا بہروپ کہہ سکتے ہیں۔آپ کو شاید میری بات کا یقین نا آئے، لیکن کل جب آپ اسے میرے پاس لے کر آئے تھے،تب اس کا معائنہ کرنے اور تمام ماجرہ سننے کے بعد ہی مجھے شک ہوگیا تھا۔اور آج صبح جب مجھے گارڈز کے قتل کی خبر ملی تب میرا شک یقین میں بدلا۔آپ خود ایمانداری سے بتائیں کیا آپ کا آٹھ سالہ بیٹا دو ہٹے کٹے گارڈز کے گلے کاٹ سکتا تھا؟؟؟؟"
میں نے مایوسی کے عالم میں نفی میں گردن ہلائی۔

"تتت۔۔تو۔۔۔یہ Changeling کیا۔۔۔ہے؟؟؟"
میں نے پوچھا۔
"اس کے بارے میں مختلف ممالک میں مختلف روایات ملتی ہیں۔یہ ایک طرح کی غیرانسانی مخلوق ہے۔خیال رہے کہ جنات نہیں ہیں۔یہ کچھ اور ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ مخلوق بعض اوقات کسی بچے کو غائب کرکے اس کا روپ دھار کر انسانوں کے درمیان رہنے لگ جاتی ہے۔ان کی اپنی کوئی خاص شناخت نہیں ہے۔بس جوانسانی روپ دھار لیں اسی میں رہتی ہیں۔انتہائی اذیت پسند اور ضدی مخلوق ہوتی ہے۔ایک بار جس انسان سے خار کھا لے پھر جب تک اسے شدید اذیت نا پہنچائے تب تک چین سے نہیں بیٹھتی۔"
ڈاکٹر کی باتوں نے مجھے اندر تک دہلا دیا تھا۔
"تتت۔۔تو۔۔۔اس سے۔۔۔چھٹکارا۔۔۔۔کیسے پائیں؟؟؟"
میرا سوال سن کر ڈاکٹر تھوڑی دیر چپ رہا پھر ایک گہری سانس لیتے ہوئے گویا ہوا:
"نہیں پاسکتے!!!!وہ اب آپ اور آپ کے خاندان سے منسلک ہوچکی ہے۔۔۔۔۔مجھے یہ بات کہنی تو نہیں چاہیئے لیکن یوں سمجھیں کہ آپ کو وارن کرنے کے لیئے کہہ رہا ہوں۔۔۔اب جب تک آپ کے خاندان کا آخری انسان ذندہ ہے تب تک یہ آپ کے پیچھے ہے۔۔۔۔۔"
تبھی میرا فون بج اٹھا۔۔۔۔گھر سے کال تھی۔۔۔۔میں دھڑکتے دل سے فون اٹھایا۔۔۔!!!"


اگلی قسط پڑھنے کے لیئے نیچے اس( → ) نشان پر کلک کیجیئے
پچھلی قسط پڑھنے کے لیئے نیچے اس ( ← ) نشان پر کلک کیجیئے

Post a Comment

0 Comments