چینجلینگ قسط نمیر ایک




(کہیں آپ کے اردگرد بھی کوئی Changeling تو موجود نہیں!!!!)

اپنی کہانیوں میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیئے میں حقیقی واقعات کا سہارا لیتا تھا۔اس لیئے اپنے اردگرد گہری نظر رکھتا کہ کہیں کوئی انہونی ہو تو اسے اپنے الفاظ میں ڈھال سکوں۔آج اسی سلسلے میں مٙیں تھانے آیا ہوا تھا۔جب یہ واقع مجھ تک پہنچا تو شروع میں مٙیں بھی دہل گیا تھا۔مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا تھا۔تاہم پولیس اور مقامی لوگوں کے مطابق ایسا ہی ہوا تھا۔سو اپنے ایک عزیز کی سفارش کرا کے میں جیل میں مقید اس شخص سے ملنے پہنچ گیا۔سفارش چونکہ تگڑی تھی اس لیئے مجھے ملاقات اور انٹرویو کے لیئے کافی وقت مل گیا۔جب اس شخص کو میرے سامنے لایا گیا تو اس کو دیکھ کر ایک بار پھر مجھے اس واقع پر شک گزرا۔وہ شخص بظاہر کافی معقول اور شریف شکل و صورت کا تھا۔اس کو دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص ایسا نہیں کرسکتا۔تاہم دنیا ایسی انہونیوں سے بھری پڑی ہے۔

وہ میرے سامنے میز کی دوسری طرف بیٹھا تھا۔میں نے اپنے موبائل کا ریکارڈنگ سسٹم آن کر کے اس کے سامنے رکھا۔
"میں عالیان کیانی ہوں۔چھوٹی موٹی کہانیاں لکھتا رہتا ہوں۔اسی سلسلے میں آپ سے بات کرنے آیا تھا۔"
میں نے اپنا تعارف کروایا۔
"جی میں جانتا ہوں آپ کو۔۔۔چند ایک کہانیاں بھی پڑھی ہیں۔"
اس نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا۔
"شکریہ جناب۔کیا آپ مجھے اپنا نام بتانا پسند کریں گے؟"
میں سیدھا اصل مدعا پر آنا چاہتا تھا۔
"ؑبہروز خالد نام ہے میرا۔"
اس نے جواب دیا۔
"کیا جو کچھ آپ کے بارے کہا جارہا ہے وہ سچ ہے؟؟؟"


یہ بھی پڑھیں:

آدھی رات کا انوکھا واقعہ


میں نے پوچھا۔
"جی۔"
اس نے مختصر سا جواب دیا۔مجھے ایک شدید جھٹکا لگا۔ایک انسان اس قدر ظالمانہ کام کرنے کے بعد بھی کس طرح اتنامطمیئن رہ سکتا تھا؟
"آپ کو اور آپ کے اطمینان کو دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ آپ نے ایسا کیا ہو۔کہیں کسی دباو کی وجہ سے تو اپنے سر نہیں لے رہے یہ الزام؟"
میں مزید تصدیق چاہتا تھا۔
"کیسا دباو؟؟؟کوئی دباو نہیں ہے۔میں نے جو کیا میں اسی بات کا اعتراف کررہا ہوں۔"
عجیب انسان تھا۔کس سکون میں تھا۔میں تھوڑی دیر تذبذب کا شکار ہوا۔
"وجہ بتا سکتے ہیں؟"
میں نے پوچھا۔
"جانے دیں۔"
اس نے کہا۔
"کیوں؟؟؟"
"کیونکہ آپ میرا یقین نہیں کریں گے۔میری وجہ کو محض ایک بہتان تصور کریں گے باقی لوگوں کی طرح۔"
اس کے لہجے میں یقین تھا۔
"میں باقی لوگوں میں سے ہوتا تو یہاں تک نا آتا۔وجہ جاننے ہی آیا ہوں تاکہ کسی نتیجے پر پہنچ سکوں۔"
میں نے جواب دیا۔
"نہیں آپ کہانی کی تلاش میں آئے ہیں۔تاہم میں ایک شرط پر ہی آپ کو وجہ بتاوں گا۔"
اس نے کہا۔
"کیسی شرط؟"
"کیونکہ آپ کی تحاریر میں نے پڑھ رکھی ہیں اس لیئے ایک موہوم سی امید ہے کہ آپ میری بات پر یقین کرلیں گے۔شرط یہ ہے کہ وجہ بیان کرتے وقت آپ درمیان میں بولیں گے نہیں۔"
"او۔کے۔۔۔پھر اس سے پہلے ایک بار دہرا دیں کہ آپ پر الزام کیا ہے؟"
میں نے کہا۔
"الزام نہیں سچ ہے۔میں نے واقعی اپنے آٹھ سالہ بیٹے کا قتل کیا ہے۔اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے انہیں آگ لگائی ہے۔"
ایک بار پھر اطمینان۔۔۔یعنی اس شخص نے اپنے سگے بیٹے کا ناصرف قتل کیا بلکہ لاش کے ٹکڑے کر کے جلایابھی۔اس کے باوجود وہ مطمیئن تھا۔۔۔۔ایک رائٹر کی نگاہ سے میرے لیئے یہ ایک بہترین کہانی ثابت ہوسکتی تھی۔
"کیوں کیا ایسا؟؟؟"
اب میں وجہ کی جانب آیا۔وہ شخص تھوڑی دیر خاموش رہا۔پھر ایک لمبی آہ بھر کے شروع ہوا:

"آج سے لگ بھگ آٹھ سال پہلے میرا گھرانہ خوشیوں میں نہا گیا جب میرا بیٹا مہروز پیدا ہوا۔وہ ہماری شادی کے پانچ سال بعد پیدا ہوا تھا۔اس لیئے پورا خاندان خوشی سے سرشار تھا۔ہم میاں بیوی،میرے والدین اور بہن بھائی سبھی اس پر اپنی جان نچھاور کرتے تھے۔بہت خوبصورت تھا۔بالکل اپنی ماں پر گیا تھا۔وقت گزرتا گیا۔وہ بالکل نارمل بچوں کی طرح تھا۔شیطانیاں،کھیلنا کودنا،لاڈلا ہونے کی وجہ سے ضد کرنا وغیرہ سب باتیں عام سی تھیں۔۔۔سکول جانے لگا تھا۔پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔وہ خاموش رہنے لگا۔تنہائی پسند بننے لگا۔آدھی آدھی رات تک اس کے کمرے سے سرگوشیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ضد خطرناک حد تک بڑھ گئی۔شروع میں تو ہم نے سمجھا کہ بچہ ہے کسی وجہ دباو کا شکار ہوگا۔لیکن پھر ایک رات عجیب واقع پیش آیا۔اس کی ماں اسے کھانے پر بلانے اس کے کمرے میں گئی۔تھوڑی دیر بعد کمرے سے چیخنے کی آواز آئی۔میں دوڑ کر اندر گیا تو اپنی بیوی کو سر پکڑے فرش پر بیٹھا پایا۔

اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔فرش پر گلاس کے ٹکڑے پڑے تھے۔بیوی کی مرحم پٹی کروانے کے بعد معلوم ہوا کہ مہروز نے ہی اس کے سر پر گلاس مارا تھا۔وجہ یہ تھی کہ وہ باہر آنے پر تیار نا تھا۔جب ماں نے اصرار کیا تو اس نے حملہ کردیا۔میں غصے میں تلملاتا ہوا اس کے کمرے میں پہنچا تو وہ بستر پر اوندھا پڑا سو رہا تھا۔فرش پر خون سے لکھا ہوا تھا۔۔۔۔"Go away"...میں ایک لمحے کو ڈر گیا۔صبح ہوتے ہی میں مہروز کو ایک سائکیاٹرسٹ کے پاس لے گیا۔تاہم وہاں پہنچتے ہی وہ بالکل نارمل بچوں کی طرح لگنے لگا۔سائکیاٹرسٹ نے محض ذہنی دباو کہہ کر اور چند ادویات دے کر ہمیں رخصت کردیا۔جیسے ہی ہسپتال سے باہر نکلے وہ میری جانب دیکھ کر عجب طنزیہ انداز میں مسکرایہ۔۔۔میں اس لمحے اپنا غصہ پی کررہ گیا۔"

وہ پانی پینے کے لیئے تھوڑی دیرکو رکا۔پھر گویا ہوا:
"اگلے چند دن کوئی خاص واقع پیش نا آیا۔ہم سمجھے کہ وہ ادویات کے ذیرِ اثر اب معمول پر آنے لگا تھا۔سو ایک رات تھوڑا چینج لانے کے لیئے میں نے اسے اسکے دادا دادی کے ہاں بھیج دیا۔رات کے کسی پہر مجھے ماں کا فون آیا۔وہ خاصی گھبرائی اور سہمی ہوئی تھی۔مجھے فوراً سے پہلے پہنچنے کا کہا۔دل ہی دل آیات کا ورد کرتے،دوڑتے بھاگتے میں وہاں پہنچا۔جیسے ہی گھر کے اندر قدم رکھا میرے بدن میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔برآمدے کا فرش خون آلود تھا۔ماں کو آوازیں دیتا میں اِدھر اُدھر بھاگنے لگا۔تبھی کچن سے اس کی نحیف سی آواز آئی۔میں اس طرف کو بھاگا۔جیسے ہی ماں نے دروازہ کھولا، وہ مجھ سے لپٹ کررودی۔

اسے سنبھالتے میری نظر سامنے فرش پر پڑے ابا جان پر گئی تو میری روح کانپ اٹھی۔۔۔۔ان کا بازو کندھے سے کٹا ہوا تھا۔خون بے تحاشہ بہہ جانے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوچکے تھے۔میں نے فوری طور پر ایمبولینس کے لیئے کال کی اور ماں کو پانی پلا کر مہروز کے بارے پوچھا تو اس نے بیٹھک کی طرف اشارہ کیا جسے باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔ایمبولینس پہنچنے تک ماں نے روتے روتے سارا ماجرہ سنایا۔اس کے مطابق مہروز اور اباجان باہر باغیچے میں گھوم رہے تھے جب ان کے چیخنے کی آواز آئی۔ماں دوڑ کر وہاں پہنچی تو دیکھا کہ اباجان خون آلود زمین پر گرے پڑے تھے،ان کا بازو کٹ کر ایک طرف ہوچکا تھا۔مہروز ہاتھ میں کلہاڑا اٹھائے ایک طرف کھڑا چپ چاپ انہیں گھورے جارہا تھا۔ماں نے کسی طرح مہروز کو بیٹھک میں بند کیا، پھر اباجان کو سہارا دے کرکچن میں لے گئی۔"
اپنی بات روک کر اس نے ایک نظر مجھے دیکھا۔جیسے اطمینان کررہا تھا کہ میں انہماک سے اسے سن رہا تھا۔
"ماں رو رو کرکہتی رہی کہ مہروز پر کسی آسیب کا سایہ تھا۔لیکن نجانے کیوں مجھے ایسا کچھ نہیں لگتا تھا۔آسیب کے سائے ایسے نہیں ہوتے۔یہ کچھ اور ہی تھا۔
خیرخون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ابا جان کی ڈیتھ ہوگئی۔۔۔۔یہ مہروز کا پہلا قتل تھا۔۔۔۔"
"مہروز کا پہلا قتل؟؟؟"
میں اب مزید چپ نہیں رہ سکتا تھا۔




اگلی قسط پڑھنے کے لیئے نیچے اس( → ) نشان پر کلک کیجیئے

Post a Comment

0 Comments