پانچ لطیفے لوٹ پوٹ ہونے کے لیے



پانچ لطیفے لوٹ پوٹ ہونے کے لیے


یہ پانچ لطیفے تھوڑے لمبے ہونے کی وجہ سے فیس بک پرپبلیش نا کیےجاسکے اب انہیں آپ سر سفیان بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام پر پڑھ سکتے ہیں۔


<------------------------------------->
لطیفہ نمبر 1:

ایک صاحب نے گھر میں بیگم کے ساتھ کھانا شروع کیا۔ دو تین نوالے ہی مشکل سے کھانے کے بعد انھوں نے شکایت کی۔۔”یہ آج تم نے کھانے کا کیا حشر کردیا ہے, نا گوشت گلا ہے نا ہی سبزی ۔ مجھ سے تو کھانا ہی نھیں کھایا جارہا”۔۔بیگم صاحبہ تنک کر بولیں۔۔”غلطی اپنی اور غصہ مجھ پر اتار رہے ہو۔ یہ کھانا تو میرے بھی حلق سے نیچے نہیں اتر رہا۔”
میری غلطی۔۔۔؟؟شوہر کا پارہ اور چڑھ گیا۔” کیا کھانا میں نے پکایا ہے۔۔۔۔؟؟؟”کھانا پکانے کی ترکیبوں والی کتاب کس نے مجھے لاکر دی تھی۔۔۔؟؟

بیوی نے پلیٹ سے ہاتھ کھینچتے ہوئے جوابی وار کیا۔۔اسی میں سے ایک پکوان کی ترکیب پڑھ کر میں نے یہ ڈش بنائی ہے۔اورسنو کہ وہ ترکیب چار آدمیوں کے لئے تھی , جبکہ ہم صرف دو ہیں۔۔
"اسی لئے میں نے ہر چیز آدھی آدھی کردی۔۔”اور تو اور میں نے اتنی احتیاط برتی کے "پکنے کا وقت بھی آدھا رکھا۔اب تم ہی بتاؤ۔۔۔۔

"اتنی محنت اور احتیاط کے باوجود بھی سبزی اور گوشت گلیں نہیں تو غلطی میری ہے یا تمہاری۔۔۔۔؟؟؟”
تمہیں ہی کوئی اچھی سی پکوان کی کتاب لانی چاہئے تھی کہنہیں۔۔۔؟؟؟???

<------------------------------------->
لطیفہ نمبر 2

پنجاب کے علاقے میں پاک بھارت سرحد پر جھڑپیں جاری تھیں۔ بھارتی فوج سکھوں پر مشتمل تھی۔ رات اتنی کالی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ اب خالی خولی فائرنگ کا کیا فائدہ!
پاکستانی فوجیوں نے مشورہ کیا کہ اب کیا کیا جائے!!! ایک ذہین فوجی نے کہا کہ سکھوں میں اکثر نام ‘رام سنگھ’ ہوتا ہے۔ ہم میں سے وقفے وقفے سے "رام سنگھ” کا نام لے کر آواز دیں گے، جدھر سے آواز آئے گی، گولی مار دیں گے۔

میٹنگ ختم ہوئی، سب نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ ایک فوجی نے آواز لگائی: "رام سنگھ”۔ ادھر سے جواب آیا: "ہاں”۔ ساتھ ہی ایک ٹھاہ کی آواز بلند ہوئی اور رام سنگھ مارا گیا۔چند منٹ بعد پھر ایک فوجی کی آواز آئی: "رام سنگھ”۔ جواب آیا: "ہاں”۔ ساتھ ہی ٹھاہ۔جب چار پانچ رام سنگھ ڈھیر ہو گئے تو سکھوں نے بھی میٹنگ بھلا لی۔ ایک ذہین سکھ فوجی نے مشورہ دیا کہ ہم بھی ان کے ساتھ وہی کرتے ہیں جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا۔ مسلمانوں میں اکثر نام "اللہ رکھا” ہوتا ہے۔ وقفے وقفے سے آوازیں لگا کر ان کے سارے اللہ رکھے مار دیتے ہیں اور اپنا بدلہ لے لیتے ہیں۔
ذہین سکھ فوجی کا یہ مشورہ سب نے بہت پسند کیا اور اسے کندھوں پر اٹھا لیا۔ میٹنگ کے بعد سب نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ تھوڑی دیر کے بعد اسی ذہین سکھ فوجی نے آواز لگائی: "اللہ رکھا”۔
ادھر سے جواب آیا: "اللہ رکھا چھٹی پر ہے۔ تم کون ہو، رام سنگھ”؟ اس نے کہا: "ہاں”۔ ساتھ ہی آواز آئی ٹھاہ اور ذہین سکھ فوجی مارا گیا۔??





<------------------------------------->
لطیفہ نمبر 3

ایک شہزادی تھی (ماڈرن دور کی) دیکھنے میں بہت پیاری تھی۔ انکے دربار میں ایک غلام تھا جو کہ وہ بھی کسی شہزادے سے کم نہیں دیکھتا تھا۔

ایک دن غلام نے گستاخی کرتی ہوئے نظریں اٹھا کر شہزادی کو دیکھا۔ اسکو پہلی ہی نظر میں شہزادی بھا گئی۔
ایک روز شہزادی پالکی میں بیٹھ کر جنگل کی سیر کو نکلی جس کے محافظ کے طور پہ بادشاہ نے چند لونڈیوں اور اس غلام کو ساتھ میں بھیجا۔سیر کرتے وقت جنگل میں شیر آگیا۔

جس کی دھاڑ سنتے ہی سب لونڈیاں بھاگ گئیں۔ شیر نے پالکی پہ حملہ کیا جس سے وہ ٹوٹ گئی۔ غلام نے شیر کا بہادی سے مقابلہ کرتے ہوئے شیر کو مارا ڈالا۔ اس کے بعد بارش شروع ہو گئی۔ اب شہزادی اور غلام دونوں بچے جو بارش میں فل بھیگ گئے تھے۔ شہزادی نے غلام کو کہا تم میری طرف دیکھو۔غلام نہیں یہ گستاخی ہم نہیں کر سکتے۔

شہزادی نے بہت اصرار کیا تو غلام نے نظریں اٹھا کر شہزادی کی طرف دیکھا اور۔۔۔چیخ مار کر بھاگ گیا ۔ کیونکہ بارش سے اسکا میک اپ اتر چکا تھا ??

<------------------------------------->
لطیفہ نمبر 4

تین دوستوں نے جن کی شادی نہیں ہورہی تھی ملک کے بادشاہ کو درخواست پیش کی کی کہ انکی شادی کروا دی جائے بادشاہ نے تنیوں کو بلالیا اور کہا کہ میں تمہاری شادی کروا دیتا ہوں…..لیکن ایک شرط ہوگی تم لوگوں کو ایک آزمائش سے گذرنا پڑے گا ۔جو کامیاب ہوگیا اس کی شادی ایک خوبصورت لڑکی سے کروادی جائے گیاور جو ناکام ہوا اس کی شادی کسی بدصورت اور لڑاکا لڑکی سے ہوگی
انہوں نے شرط منظور کرلی۔انہیں ایک تاریک کمرے میں اکٹھا رکھا گیا۔ جہاں مکمل اندھیرا تھا۔ اور بتایا گیا کہ یہاں ایک ماہ تک رہنا ہے۔یہیں سب کچھ کھانا پینا ، سونا جاگنا ہوگا۔
اور کمرے میں جگہ جگہ پاپڑ رکھے گئے ہیں ان سے بچنا ہے کہ پاوں کے نیچےنہ آجائے۔ جس کا پاوں پاپڑ پر آگیا ۔ اسکی شادی بدصورت لڑکی سے کردی جائے گیاب جناب تمام دوست اس آزمائش سے صحیح سلامت گذرنے کیلئے مکمل احتیاط سے رہنے لگے9 دن خیریت سے گذرگئے ۔ دسویں دن ایک دوست کا پاوں پاپڑ پر آگیا۔ فورا اسے سپاہی کمرے سے نکال کر لے گئے اور اسکی شادی بدصورت لڑکی سے کردی گئی ۔
اب دو دوست خوش ہوئے کہ اب جگہ کھلی ہو گئی ہے۔ بیسویں دن ایک اور دوست کا پاوں پاپڑ پر آگیااور سپاہی اسے بھی روتا دھوتا لے گئے۔اب تیسرا اکیلا رہ گیا۔ اس نے باقی دن خیریت سے گذار لیےآزمائش پوری ہونے پر اسکی شادی ایک خوبصورت لڑکی سے کردی گئی اور وہ خوشی خوشی رہنے لگاایک دن اس نے اپنی بیوی سے کہا” تمھیں پتہ ہے میں تمھیں حاصل کرنے کیلئے کتنی تکلیف دہ آزمائش سے گذرا ہوں- ” اور اسکے بعد مکمل تفصیل سمجھائی ۔
پھر پوچھا ” اچھا تم بتاو۔ تم نے مجھے حاصل کرنے کیلئے کیا کیا؟”بیوی نے ٹھنڈی سانس بھری اورکہا” ہم بھی تین سہیلیاں ایک کمرے میں بند تھیں۔ پھر ایک دن میرا پاؤں پاپڑ پر آگیا”??


<------------------------------------->
لطیفہ نمبر 5
ہمارے ایک دور پار کے چچا بہت عرصہ غیر ملکی کنسٹریکشن کمپنی میں رہے …. طبیعت میں بذلہ سنجی کوٹ کوٹ کر بھری تھی- اپنی یاداشتوں کے سمندر سے روز ایک نیا موتی نکال لاتے اور محفل کو باغ وبہار کر دیتے تھے-ایک بار فرمانے لگے کہ 1979ء میں ہم مظفرگڑھ کے قریب کسی پراجیکٹ پر کام کر ریے تھے- ہمارا انچارج ایک انگریز تھا جو قدرے سخت مزاج واقع ہوا تھا-
ایک سرد اور دھند آلود صبح جب میں سائٹ پر پہنچا تو بلڈوزر آپریٹر اللہ بخش سخت پریشان کھڑا تھا
مجھے دیکھتے ہی وہ میری طرف لپکا اور ہانپتے کانپتے اطلاع دی کہ ” بابا سائیں” ناراض ہو گئے ہیں اور میرا بلڈوزر بند کر دیا ہے- خدا کےلئے میری سفارش کر دو-
میں نے حیرت سے پوچھا کونسے بابا سائیں ؟وہ بولا قبر والا بابا سائیں ، بہت بڑی سرکار ہیں-
پھر وہ مجھے ساتھ لئے جنگلی جھاڑیوں کے بیچ بنی ایک چھوٹی سی ٹیکری پر لے گیا جو قدرے قبر سے مشابہ تھی-اللہ بخش کے مطابق آج صبح کوشش کے باوجود اس کا بلڈوزر اسٹارٹ نہ ہو سکا تو اچانک اسے یہ قبر نظر آئی ….خیر مشورہ ہوا کہ مسٹر اسٹیفن سے بات کر کے سڑک کی سمت تبدیل کرائی جائے ….. یہ نہ ہو کہ بابا ہم سب کو ساڑ کر سواہ کر دے ….
وہ بولا سائیں تم خود بات کرو ، ہماری تو نہ بابا سائیں سننے کو تیار ہے نہ ہی اسٹیفن سائیں !!میں بھاگا بھاگا مسٹر اسٹیفن کے آفس پہنچا اور ماجرا سنایا …. وہ فون پر بزی تھے …. ایک لمحے ہولڈ کہ کر میری بات سنی ، پھر سرد لہجے میں بولے” بُل شِٹ !!! "میں سنی ان سنی کر کے کھڑا رہا- اس کے بعد مسٹر اسٹیفن فون پر بزی ہوگئے …. اور میں استغفار پڑھتا ہوا واپس ہو لیا-واپس سائٹ پر آکر میں نے ٹیکری والی سرکار کو سجدہ کیا ، پاؤں چومے اور وعدہ کیا کہ ایک بار بلڈوزر اسٹارٹ کرنے دو ، ہم ریورس کر لیں گے- اور دوبارہ ادھر کا رخ بھی نہ کریں گے- اس کے بعد میں نے خود بلڈوزر اسٹارٹ کرنے کی بہت کوشش کی … لیکن سائیں بہت تگڑا تھا اور بلڈوزر بہت کمزور !!!
چنانچہ ایک بار پھر جوتے چٹخاتا مسٹر اسٹیفن کے سامنے جا کھڑا ہوا ….”سر وُہ …… بابا ” میں نے بمشکل کہا-انہوں نے غصے سے فون کریڈل پر پٹخا ، گودام سے ایک پرانا کپڑا ، لکڑی کا ڈنڈا اور پھاوڑہ لیا اور زیرِلب انگریزی میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے میرے ساتھ سائٹ کی طرف چل پڑے-میں ڈرا کہ یا تو آپریٹر اللہ بخش کی خیر نہیں یا بلڈوزر کو آگ لگانے کا ارادہ ہے- بلڈوزر کے پاس آکر انہوں نے کپڑا ڈنڈے کے ساتھ باندھ کر ٹینکی سے تھوڑا ڈیزل نکالا ….اور مشعل جلا کر بلڈوزر کا انجن گرمانے لگے …. اس کے بعد چابی لے کر بلڈوزر پر چڑھے اور پہلی ہی اگنیشن میں اسٹارٹ کر دیا….میں اور اللہ بخش ایک دوسرے کی طرف حیرت اور شرمندگی سے دیکھنے لگے- اس کے بعد صاحب نے چابی اللہ بخش کی طرف پھینکی … پھر بیلچہ لے کر قبر کی اینٹ سے اینٹ بجانے لگے-
ساتھ ساتھ وہ بڑبڑا بھی رہے تھے….روڈ فار پیپلز …. ناٹ فار ڈیڈ باڈیز … انڈراسٹینڈ یو بابا بلیک شیپ !!!!!”میں اور عبدالکریم اس دن شام تک مسٹر اسٹیفن کے سڑ کر سواہ ہونے کا انتظار کرتے رہے …… لیکن وہ منحوس اگلے روز بھی ہشاش بشاش ہی دکھائی دیا ، وہی مونہہ میں ادھ بجھا سگار اور وہی ٹیڑی گندی ہیٹ !!پروجیکٹ ختم ہوتے ہی مسٹر اسٹیفن تو ولایت چلے گئے ، مجھے اور اللہ بخش کو ایک نئ ٹیکری مل گئ اور ہم نے اس پر ” بابا بلڈوزر شاہ ” کا جھنڈا لہرا کر ہی چھوڑا-
ایک روز اللہ بخش بولا …..” ملک سائیں ….. سمجھ نہیں آتی کہ بابا نے اسٹیفن گستاخ کو ساڑ کر سواہ کیوں نہیں کیا تھا ؟؟..”میں نے ایک ٹھنڈی سانس لیکر کہا…..” اللہ بخش !!! بابے صرف انہی کو ساڑ کر سواہ کرتے ہیں جو انہیں مانتے ہوں …. اسٹیفن تو وہابی قسم کا انگریز تھا … اور وہابی تو بابوں کو مانتے ہی نہیں !!! 
<------------------------------------->



ہماری پوسٹ اچھی لگی ہو تو اسے شئیر بھی کر دیجئے اور ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب بھی کر دیں۔

سبسکرائب کرنے کے لیئے یہاں کلک کریں۔۔۔


Post a Comment

0 Comments