تاریخ کعبہ شریف


 “ السّلام علیکم و رحمة الله و برکاتہ “
فضیلت درود پاک:

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

سورہ احزاب۔ آیت نمبر 56۔ ترجمہ کنزالعرفان 

درود ابراہیمی

اس لیے آپ بھی ایک بار درود پاک پڑھ لیجیے

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ


جمعہ اسپیشل


تاریخ کعبہ شریف 

ہر مسلمان کی خواہش ہے کے زندگی میں کم از کم وہ ایک بار اپنی کھلی آنکھوں سے کعبہ شریف کو دیکھے اور مکہ مکرمہ کی مسجد میں اپنا سَر ٹیک کر اللہ کو سجدہ کرے . کیا آپکو معلوم ہیں کعبہ شریف کی فضیلت اسلام سے بھی پہلے کی ہے .

قرآن شریف میں واضح الفاظ میں بتایا گیا ہے کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم ہوا تھا کے وہ ارب کی ریگستان میں کعبہ کو اللہ کے جنت میں بنے گھر ''بیت الا مامور'' کی طرح بنائیں . حضرت اسماعیل علیہ السلام . نے اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام . کو کعبہ بنوانے میں مدد کی تھی اور تب سے انہی کا خاندان کعبہ کی رکھوالی کا زمہ دار ہے . کافی سالوں بَعْد یہ ذمےداری عبدالمناف کے پاس آگئی اور انہوں نے کعبہ کی شان میں اور چار چاند لگا دیئے .

حضرت ابراہیم علیہ السلام . نئے حضرت آدَم علیہ السلام . کی رکھی ہوئے بنیاد پر کعبہ شریف کو پِھر سے بنایا تھا . شروعات میں کعبہ کی صرف چار دیواریں تھیں اور چھت نہیں تھی . ہزاروں سال بَعْد کوسائی جو کہ قریشِ کا سردار تھا ، کعبہ کی دیواریں اونچی کروائیں اور چھت بھی ڈلوائی  .

آج کعبہ اونچائی اور چوڑائی میں 60 فیٹ بڑا ہے . ایک دروازہ جو زمین سے 7 فٹ اونچائی پر لگا ہے اور ہجر اسود ایک طرف نصب کیا گیا ہے . کعبہ کے چند فاصلے پر صفا اور مروا بھی ہیں . کعبہ ایک کالی چادر جس کو کیسوا کہا جاتا ہے سے ڈھکا ہوا ہے جس پر سونے کے تار سے قرآن شریف کی آیات لکھی ہوئے ہیں .


Post a Comment

0 Comments