غصہ پی جانے والوں کی فضیلت


 “ السّلام علیکم و رحمة الله و برکاتہ “
فضیلت درود پاک:

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

سورہ احزاب۔ آیت نمبر 56۔ ترجمہ کنزالعرفان 

درود ابراہیمی

اس لیے آپ بھی ایک بار درود پاک پڑھ لیجیے

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ


جمعہ اسپیشل


غصہ پی جانے والوں کی فضیلت

انسان کے ساتھ ہمشہ ایک دشمن ہوتا ہے اور وہ ہے اس کا اپنا غصہ ۔یہ شیطان کی طرف سے آٹا ہے اور شیطان ہمارا بد ترین دشمن ہے۔جو انسان غصے میں اپنی زبان اور ہاتھوں کو قابو کرنا نہیں جانتا،وہ اپنی تباہی کا سامان اپنے ہاتھوں سے کرتا ہے جب بھی انسان کو غصہ آتا ہے تو اس کے سامنے تین راستے ہو تے ہیں یا تو وہ اسی وقت غصے کا بھر پور اظہار کر دے۔ وقت آنے پر بدلہ لے ۔خاموش رہے ،صبر کرے اور غصہ پی کر زیادتی کرنے والے کو معاف کر دے۔ان راستوں میں سے تیسرا راستہ اختیار کرنے والوں کی قرآن و احادیث میں بے پناہ فضیلت بیان کی گئی ہے ۔
چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ

’’اور اپنے پر وردگار کی بخشش کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمیں کے برابر ہے اور جو (خدا سے ) ڈرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں )خرچ کرتے ہیں اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کر تے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتاہے‘‘۔

سورہ العمرآن:3، آیت نمبر (134-133)

اس آیت میں اللہ رب العزت نے جن نیک بندوں کو اپنا دوست کہا ہے ان کی کئی صفات میں ایک صفت غصہ کو پی جانا اور زیادتی کرنے والے کو معاف کردیناہے ۔

جبکہ حدیث رسول ﷺ ہے کہ

’’ بندہ جو گھونٹ پیتا ہے ،اللہ کے ہاں اس سے بہتر نہیں جو غصے کا گھونٹ وہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے پی جاتا ہے‘‘۔

ایک اور جگہ اس طرح بھی فرمایا کہ اللہ کے نزدیک وہی زیادہ عزت والا ہے، جسے جب قدرت حاصل ہو جائے تو معاف کردیتا ہے۔

جبکہ ایک جگہ غصہ پی جانے والوں کی شان اس طرح بھی بیان فرمائی ہے کہ’’ جو اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کے عیب پر پردہ ڈالتے ہیں اور جو اپنے غصے کو روکتا ہے ،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے اپنے عذاب کو روک لیں گے اور جو اللہ کے سامنے معذرت کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کے عذر کو قبول فرمالیتے ہیں‘‘۔

Post a Comment

0 Comments