حضرت خجندی علیہ الرحمۃ اور بساطی شاعر:۔



چنانچہ منقول ہے کہ حضرت کمال الدین خجندی علیہ الرحمۃ ایک مرتبہ شاعروں کے مجمع میں تشریف لے گئے تو بساطی شاعر نے آپ کو دیکھ کر نہایت ہی بدتمیزی اور بے ہودگی کے انداز میں یہ مصرع بک دیا ؎

" از کجائی از کجائی اے لُوند"

"ترجمہ: تم کہاں سے آئے تم کہاں سے آئے اے بدمعاش!(معاذاللہ) 
آپ نے یہ سمجھ کر کہ نشہ میں بک رہا ہے کچھ زیادہ ناراض نہیں ہوئے بلکہ تفریحاً جواب میں ایک مصرع کہہ دیا کہ!"

" از خجندم، از خجندم از خجند"

"ترجمہ: میں خجند سے آیا، میں خجند سے آیا، میں خجند سے آیا 
پھر آپ نے مجمع سے مخاطب ہو کر فرمادیا کہ یہ نشہ میں بدمست ہے جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے، اس سے کچھ نہ کہو یہ سن کر بساطی کمینے نے آپ کی ہجو میں ایک شعر یہ کہہ دیا کہ"

" اے ملحد خجندی ریش بزرگ داری 
 کز غایت بزرگی دہ ریش می تواں گفت"

"ترجمہ:اے ملحد خجندی تو بہت بڑی داڑھی رکھتا ہے کہ اس کی بڑائی کو دیکھ کر اس کو دس داڑھیاں کہہ سکتے ہیں۔ (معاذاللہ) 
مجمع عام میں یہ ہجو سن کر آپ کو سخت ناگواری ہوئی اور آپ نے قہر آلود نظروں سے دیکھ کر بددعا دی تو بغیر کسی بیماری کے بساطی شاعر ایک دم مر کر زمین پر گر پڑا اور سب لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔"

(روح البیان،ج۲،ص۴۵،پ۳،آل عمران: ۶۳)

اگلا واقعہ پڑھنے کے لیئے نیچے اس ( ← ) نشان پر کلک کیجیئے
پچھلا واقعہ پڑھنے کے لیئے نیچے اس( → ) نشان پر کلک کیجیئے

Post a Comment

0 Comments