مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر ان کو اڑا دینا



جب بنی اسرائیل نے یہ معجزہ طلب کیا کہ مٹی کا پرند بنا کر اڑا دیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مٹی کے چمگادڑ بنا کر ان کو اڑا دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پرندوں میں سے چمگادڑ کو اس لئے منتخب فرمایا کہ پرندوں میں سب سے بڑھ کر مکمل اور عجیب و غریب یہی پرندہ ہے کیونکہ اس کے آدمی کی طرح دانت بھی ہوتے ہیں اور یہ آدمی کی طرح ہنستا بھی ہے اور یہ بغیر پر کے اپنے بازوؤں سے اڑتا ہے اور یہ پرندہ جانوروں کی طرح بچہ جنتا ہے اور اس کو حیض بھی آتا ہے۔روایت ہے کہ جب تک بنی اسرائیل دیکھتے رہتے یہ چمگادڑ اڑتے رہتے اور اگر ان کی نظروں سے اوجھل ہوجاتے تو گر کر مرجاتے تھے۔ ایسا اس لئے ہوتا تھا تاکہ خدا کے پیدا کئے ہوئے اور بندئہ خدا کے پیدا کئے پرند میں فرق اور امتیاز باقی رہے۔

(روح البیان،ج۲،ص۳۷،پ۳، آل عمران:۴۹)

مادر زاد اندھوں کو شفا دینا:۔ روایت ہے کہ ایک دن میں پچاس اندھوں اور کوڑھیوں کو آپ کی دعا سے اس شرط پر شفاء حاصل ہوئی کہ وہ ایمان لائیں گے۔

(تفسیر جمل،ج۱،ص۴۱۹،پ۳،آل عمران ۴۹)

"مردوں کو زندہ کرنا:۔روایت ہے کہ آپ نے چار مردوں کو زندہ فرمایا:۔ 
(۱)عاذر اپنے دوست کو۔ (۲)ایک بڑھیا کے لڑکے کو۔ 
(۳)ایک عُشر وصول کرنے والے کی لڑکی کو۔ (۴)حضرت سام بن نوح علیہ السلام کو۔ 
عاذر:۔یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک مخلص دوست تھے جب ان کا انتقال ہونے لگا تو ان کی بہن نے آپ کے پاس قاصد بھیجا کہ آپ کا دوست مررہا ہے۔ اس وقت آپ اپنے دوست سے تین دن کی دوری کی مسافت پر تھے۔ عاذر کے انتقال و دفن کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں پہنچے اور عاذر کی قبر کے پاس تشریف لے گئے اور عاذر کو پکارا تو وہ زندہ ہو کر اپنی قبر سے باہر نکل آئے اور برسوں زندہ رہے اور صاحب ِ اولاد بھی ہوئے۔ 
بڑھیا کا بیٹا:۔یہ مرگیا تھا اور لوگ اس کا جنازہ اٹھا کر اس کو دفن کرنے کے لئے جا رہے تھے۔ ناگہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ادھر سے گزر ہوا تو وہ آپ کی دعا سے زندہ ہو کر جنازہ سے اٹھ بیٹھا اور کپڑا پہن کر اپنے جنازہ کی چارپائی اٹھائے ہوئے اپنے گھر آیا اور مدتوں زندہ رہا اور اس کی اولاد بھی ہوئی۔ 
عاشر کی بیٹی:۔ایک چنگی وصول کرنے والے کی لڑکی مرگئی تھی۔ اس کی موت کے ایک دن بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے زندہ ہو گئی اور بہت دنوں تک زندہ رہی اور اس کے کئی بچے بھی ہوئے۔"

اگلا واقعہ پڑھنے کے لیئے نیچے اس ( ← ) نشان پر کلک کیجیئے
پچھلا واقعہ پڑھنے کے لیئے نیچے اس( → ) نشان پر کلک کیجیئے


Post a Comment

0 Comments