گناہوں کا کفارہ



 “ السّلام علیکم و رحمة الله و برکاتہ “
فضیلت درود پاک:

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

سورہ احزاب۔ آیت نمبر 56۔ ترجمہ کنزالعرفان 

درود ابراہیمی

اس لیے آپ بھی ایک بار درود پاک پڑھ لیجیے

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ


جمعہ اسپیشل




گناہوں کا کفارہ

انسان خطا کا پتلا ہے ایسا ممکن نہیں ہے کہ وہ گناہ نہ کرے۔مگر اللہ کی محبت اپنے بندوں سے بے پناہ ہے اور وہ بہانے تلاش کرتا اسے معاف کرنے کے بیماری ان ہی میں سے ایک ہے ۔حدیث رسولﷺ ہے کہ مسلمان کو جو پریشانی ،غم ،رنج ، تکلیف اور دکھ پہنچتا ہے حتیٰ کہ اگر اس کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ ام سائب رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے فرمایا تجھے کیا ہوا ہے تو کانپ رہی ہے ،انہوں نے کہا مجھے بخار ہے، اللہ اس میں برکت نہ کرے ، آپ ﷺ نے فرمایا بخار کو گالی نہ دو اس لئے کہ بخار بنی آدم کے گناہ کو دور کر دیتا ہے ،جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے ۔

چنانچہ جس طرح ہمیں یہ یاد نہیں رہتا کہ ہم نے کتنے گناہ کئے ہیں اسی طرح جو بیماری یا دکھ ہمیں پہنچتا ہے وہ بھی کئی گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے جنہیں ہم نہیں جانتے۔یہ ایک طرح سے اللہ رب العزت کی طرف سے رحمت ہے کہ ہمارے گناہوں کے سبب بیماری آتی ہے اور ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ۔ بیماری اللہ کی جانب سے ایک اشارہ بھی ہوتی ہے کہ اب گناہوں سے باز آجاؤ اور نیک راہ اختیار کرو تا کہ تم پر بیماری نہیں اللہ کی رحمت ہو ۔

اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے فضل وکرم سے صحت و عافیت عطا فرمائے اور بیماری و پریشانی کی صورت میں صبر اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی تو فیق عطا فرمائے آمین!




Post a Comment

0 Comments