*پنگولن*


*پنگولن* 

دنیا میں سب سے زیادہ شکار کیا جانے والا مظلوم ترین جانور ہے۔اس وقت پوری دنیا میں پنگولن کی نسل ختم ہونے کے شدید خطرے سے دوچار ہے ۔

اس بات کا اندازہ اپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ دنیامیں ہر 5 منٹ کے بعد ایک پنگولن کو مار دیا جاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں 1 لکھ پنگولین کو ہر سال ابدی نیند سلا دیا جاتا ہے ۔ 

اس کا شکار اس کے گوشت اور جسم پر موجود سکیلز حاصل کرنےکے لئے کیا جاتا ہے۔اس کا گوشت کھایا جاتا ہے 

اوراس کے سکیلز کو روایتی اور جدید دوائییاں بنانے میں استمال کیا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ استمال کینسر کی دوائییاں بنانے کے لئے کیا جاتا ہے


اس کے علاوہ مہنگے اور قیمتی لباس اور سجاوٹی مجسمے اور فن پارے  بھی انہی کے سکیلز سے بناے جاتے ہیں
اس کے گوشت کی قیمت کئی ہزار روپے فی کلو گرام ہے 
اور اس کے سکیلز کی قیمت کئی لاکھ روپے فی کلو گرام ہے 
اس کے جسم سے اس کے سکیلز کو بے دردی سے نوچ لیا جاتا ہے ۔

اس کا وزن بڑھانے کے لئے ایک پریشر والی مشین اور پائیپ کے ذریعئے خوراک زبردستی کھلای یا یوں کہہ لیں کہ ٹھونسی جاتی ہے
اور یہاں تک کہ جو بچے ابھی ماں کے پیٹ میں ہوتے ہیں ان کو بھی پیٹ چاک کر کے نکال لیا جاتا ہے 

اور گوشت بنا کر فروخت کر دیا جاتا ہے ۔ایک زندہ پنگولن کی قیمت چور بازار میں  کئی لاکھ روپے ہے۔ 

قیمت آپ لوگوں کو نہیں بتا سکتا میں ،
کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کا لالچ جاگ جائے ،
آج کل پاکستان میں اس کی  غیر قانونی سمگلنگ عروج پر ہے۔
۔ 
پینگولن ایک واحد ممالیا جانور ہے جس کےجسم پر سکیلز scales ہوتے ہیں.
اس کا وزن 6•1 کلو گرام سے 33 کلو گرام تک ہو سکتا ہے ۔ 
پنگولین افریقہ اور ایشیا میں پایا جاتا ہے۔
یہ زیادہ تر انڈیا، پاکستان، چین، ویتنام، تھائی لینڈ اور افریقا کے ممالک میں پایا جاتا ہیں ۔
انڈیا اور چائینا میں یہ اپنی بکاع کی آخری جنگ لڑ رہا ہیے۔
پاکستان (پنجاب) سے تو یہ بہت پہلے ہی تقریباً ختم هو ہی چکا ہے ۔
مگر اب بھی کبھی کبھار سندھ،  آزاد کشمیر،  میاں والی اور  بلوچستان، کے علاقوں میں نظر آجاتے ہیں یا دریائوں میں بہہ کر انڈیا سے پاکستان پہنچ جاتے ہیں
اسس کی 8 اقسام ہیں۔
یہ کیڑے مکوڑے کھاتا ہے،
اس کے دانت نہیں ہوتے ۔ اس کی زبان اس کی اپنی جسامت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے ۔
اسی زبان کی مدد سے یہ کیڑے مکوڑوں کو بیلوں سے نکال کر کھاتا ہے
یہ ایک بے ضرر جانور ہے
یہ انسان کو کسی قسم کا کوئی نقصآن نہیں پہنچا سکتا
مگر آج بھی پاکستان میں ان پڑھ اور دیہاتی لوگ اسے کوئی بلا ہی سمجھتے ہیں 
اور دیکھتے ہی مار ڈالتے ہیں،
دنیا میں پنگولن کی نسل شدید خطرے سے دو چار ہے۔ 
پاکستان میں اس کے ختم ہونے کی بڑی وجہ شکار اور اس کے بارے میں معلومات کا نہ هونا ہے، 
اگر ہو سکے تو اِس پیغام کو عام کیجئے تاکہ لوگ اس معصوم جانور کے بارے میں جان سکیں اور آگاہی پیدا هو کہ یہ انسانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
اور ہاں ایک اہم بات اگر اپ اس کو شکار کرنے اور امیر ہونے کا سوچ رہے ہیں تو یہ خیال دل سے نکال دیں کیوں کہ اس کی خرید و فروخت صرف چین اور تھائی لینڈ کے غیر قانونی بازار میں ہی 2017 تک ہوا کرتی تھی 
اور اب وہاں کی حکومت نے اس پر سخت پابندی لگا دی ہے،
اب اس کے شکار یا تجارت پر 7 سال قید اور 2 لکھ جرمانہ ہے۔پاکستاں میں بھی کسی بھی ناپید جانور کے شکار پر 2 لاکھ جرمانہ اور 3 سال قید ہے۔

باقی لوگوں کی مرضی کہ اگر وہ جانوروں سے بھی بدتر انسان  بننا چاہتے ہیں تو جو چاہے کریں،  (اللہ کریم ہِدایت دے)  

تحریر ۔ 
*ڈاکٹر شیخ متین,*  RVMS ،DVM 

اضافہ
سَن دو ہزار آٹھ میں، میرے آبائی گاؤں دَھارَوکے (گوجرانوالہ)  میں، مَیں نے اسے دیکھا تھا۔ اور مقامی بچے اِسے بَلا سمجھ کر مار رہے تھے۔
اقبال احمد پَسوال

Post a Comment

0 Comments