والدین کی قدر کرو


ایک نوجوان کہتا ہے:

میرا کسی بات پر اپنے والد سے کچھ ایسا اختلاف ہوا کہ ہماری آوازیں ہی اونچی ہو گئیں۔ میرے ہاتھ میں کچھ درسی کاغذات تھے جو میں نے غصے میں ان کے سامنے میز پر پٹخے اور دروازہ دھڑام سے بند کرتے ہوئے اپنے کمرے میں آ گیا۔ 

بستر پر گر کر، ہونے والی اس بحث پر ایسا دماغ الجھا کہ نیند ہی اڑ گئی۔ صبح یونیورسٹی گیا تو بھی دماغ کل والے واقعے پر اٹکا رہا۔ ندامت اور خجالت کے مارے، دوپہر تک صبر جواب دے گیا، میں نے موبائل نکالا اور اپنے اباجی کو یوں پیغام بھیجا:

"میں نے کہاوت سن رکھی ہے کہ پاؤں کا تلوہ پاؤں کے اوپرکے  حصے سے زیادہ نرم  ہوتا ہے، گھر آ رہا ہوں، قدم بوسی کرنے دیجیئے گا تاکہ کہاوت کی تصدیق ہو سکے۔"

میں جب گھر پہنچا تو ابا جی صحن میں کھڑے میرا ہی انتظار کر رہے تھے، اپنی نمناک آنکھوں سے مجھے گلے سے لگایا اور کہا: قدم بوسی کی تو میں تمہیں اجازت نہیں دیتا، تاہم کہاوت بالکل سچی ہے کیونکہ جب تم چھوٹے سے تھے تو میں خود جب تیرے پاوں چوما کرتا تھا تو مجھے پاؤں کے تلوے اوپر والے حصے سے زیادہ نرم لگا کرتے تھے۔  یہ سن کر رونے کی اب میری باری تھی۔ 

یکے از حکایات شیخ علي الطنطاوي. رحمه الله،

والدین کی قدر کرو اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔
براہ مہربانی
کمینٹ کر کے اپنی رائے ضرور دیجیئے اور بتائیے کہ آپ کو بلاگ کیسا لگ رہا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔









Post a Comment

0 Comments