عقل دھوکہ کھانے سے آتی ہے



ایک دفعہ ایک کسان بھیڑ خریدنے دوسرے گاؤں گیا وہ بہت سادہ لوح تھا اور لوگ اسے با آسانی بے وقوف بنا لیتے تھے ،لوگوں نے اسے سمجھایا بھی کہ اگر ایسا سودا کرنے جارہے ہو تو کسی سیانے کو اپنے ساتھ لے جاؤ مگر اس کسان نے کسی کی بات نا مانی اور اکیلا ہی بھیڑ خریدنے چلا پڑا ۔۔۔

دوسرے گاؤں پہنچ کر اس نے دیکھ بھال کر ایک بھیڑ خریدی جو اسے مناسب داموں میں مل گئی وہ بہت خوش تھا کہ اتنے کم پیسوں میں اتنا اچھا جانور مل گیا ہے اس منڈی کے میں تین ٹھگ بھی گھوم رہے تھے اور ان کی نظریں سادہ لوح دیہاتیوں کو ڈھوند رہی تھی جن کو وہ بے وقوف بنا کر مال بنا سکیں ۔۔۔



یہ کسان ان تینوں ٹھگوں کی نظروں میں آگیا ان تینوں نے نظروں نظروں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا اور اپنے شکار کو پھانسنے کا منصوبہ بنا لیا کسان بھیڑ لے کر اپنے گاؤں کی طرف چلا وہ بہت خوش تھا اور وہ خوشی سے گنگناتا اپنے گاؤں کی جانب جا رہا تھا ۔۔۔


منڈی سے کچھ دور جانے پر سنسان علاقے میں پہلا ٹھگ جو گھات لگائے بیٹھا تھا سے ملا ٹھگ نے کسان سے کہا کہ بھائی بکری بہت اچھی ہے کتنے کی لی ہے کسان نے اس ٹھگ کی بات سن کر منہ بنایا اور کہا کہ بھائی یہ بکری نہیں بلکہ بھیڑ ہے ٹھگ نے کہا تم بہت بے وقوف لگتے ہو اچھا یہ بتاؤ کہ کتنے میں یہ سودا کیا کسان نے اس ٹھگ کو رقم بتائی ۔۔۔

رقم سن کر ٹھگ ہنس پڑا اور کہا دیکھا میں نے کہا تھا کہ تم بے وقوف ہو بھلا اتنی کم قیمت میں کون بھیڑ فروخت کرتا یہ کہہ کر ٹھگ ایک جانب چل پڑا کسان ٹھگ کی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا اورپھر اپنے راہ پر چل نکلا ابھی تھوڑی دور ہی گیا ہوگا دوسرا ٹھگ سامنے سے چلتا ہوا اس کے پاس پہنچا ۔۔۔



سلام دعا کے بعد اس سے کہا کہ بھائی یہ بکری کتنے کی خریدی کسان کو اب غصہ آگیا اس نے غصے سے کہا کہ یہ بکری نہیں بھیڑ ہے ٹھگ کسان کی بات سن کر ہنسا اور کہا تمھیں کسی نے بے وقوف بنا دیا ہے یہ بھیڑ نہیں بکری ہے یہ کہہ کر دوسرا ٹھگ بھی ایک جانب چل نکلا کسان پریشانی میں کھڑا یہ سوچنے لگا کہ کہیں واقعی میں یہ بکری تو نہیں ۔۔۔


اب وہ پریشانی کے عالم میں جلدی جلدی اپنے گاؤں کی جانب چل پڑا ابھی تھوری دور ہی گیا ہوگا کہ تیسرا ٹھگ ایک درخت کے کنارے اس کا انتظار کر رہا تھا کسان کو دیکھ اسے آواز دی اور پانی پیش کیاکسان نے شکریے کے ساتھ اس کا پانی قبول کیا ٹھگ نے کسان سے پوچھا کہ بھائی بکری تو بہت اچھی ہے کتنے

کی لی ہے تیسرے ٹھگ کی بات سن کر کسان کو اب پورا یقین ہوگیا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور اسے بھیڑ کے بدلے
 بکری بیچ دی گئی ہے ۔۔۔



بھائی یہ بھیڑ ہے کسان نے کمزور سی آواز میں جواب دیا ٹھگ کسان کی بات سن کر اپنے چہرے پر پریشانی سجا کر کہا تم میرے بھائی ہو لیکن کسی نے تمھیں بے وقوف بنا دیا ہے یہ بھیڑ نہیں بکری ہے کسان ٹھگ کی بات سن کے بہت پریشان ہوا اور کہنے لگا تم ٹھیک کہہ رہے ہو تم سے پہلے بھی دو آدمیوں نے مجھے یہی کہا مگر اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ یہ بکری ہے ۔۔۔

اب میں کیا کروں کسان کی بات سن کر ٹھگ بہت خوش ہوا کہ تیر نشانے پر لگ گیا ہے اس نے فوراً کہا کہ میں تم سے یہ بکری خرید لیتا ہوں مگر میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کسان نے ٹھگ کی بات سن کر سوچا کہ پورے نقصان سے بہتر ہے کہ تھوڑا نقصان اٹھا لیا جائے ۔۔۔

اس نے کہا کہ تمھارے پاس کتنے پیسے ہیں ٹھگ نے اسے بہت کم پیسے بتائے کسان ٹھگ کی بات سن کر سوچ میں پڑگیا کہ وہ کیا کرے اگر یہ بکری لے کر گھر جاتا ہے تو سراسر نقصان ہے لیکن اگر کم قیمت میں بیچ دیتا ہے تھوڑا نقصان ہوگا کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے ٹھگ کو بھیڑ بیچنے کی حامی بھر لی ٹھگ نے اسے پیسے دیئے اور ایک جانب چل نکلا کسان خوش تھا کہ چلو تھوڑا نقصان ہوا مگر بکری سے جان چھوٹی۔۔۔

Post a Comment

0 Comments