اولاد کے حقوق



 “ السّلام علیکم و رحمة الله و برکاتہ “
فضیلت درود پاک:

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

سورہ احزاب۔ آیت نمبر 56۔ ترجمہ کنزالعرفان 

درود ابراہیمی

اس لیے آپ بھی ایک بار درود پاک پڑھ لیجیے

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ


جمعہ اسپیشل


اولاد کے حقوق

جس طرح اولاد پر والدین حقوق ہیں اسی طرح والدین پر بھی اولاد کے حقوق کچھ حقوق ہیں ۔دیکھا جائے تو اللہ نے والدین کے دل میں اولاد کی محبت اس طرح رکھی وہ اس غافل نہیں ہوتے, پھر بھی کچھ گھرانوں میں والدین بچوں کا حق ادا نہیں کرتے جس کی وجہ سے معاشرے میں محرومیاں جنم لیتی اور اس طرح ایک اسلامی معاشرہ اتوار نہیں ہو سکتا۔


  • پالنا فرض، قتل کرناظلم

والدین میں اولاد کی محبت ہوتی ہی ہے. لیکن پھر بھی اکثر والدین بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دیتے ہیں ۔اسلام سے قبل بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کردیا جاتا تھا۔جو اللہ کو سخت ناپسند ہے ۔قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ ا ور اپنی اولاد کو افلاس وغربت کے ڈر سے قتل نہ کرو ۔کیونکہ ان کو اور تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں بیشک ان کا قتل کرنا بڑابھاری گناہ ہے۔

اور جب( قیامت کے روز)زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا وہ کس گناہ پر قتل کی گئی تھی۔
سورہ التکویر آیت 8 اور 9



  • شفقت و محبت

شفقت ومحبت اولاد کا حق ہے اس لئے ماں باپ کو بیٹوں اور بیٹیوں سے بلا تمیز محبت و شفقت کا رویہ رکھنا چا ہئے ۔حدیث نبوی ﷺ ہے کہ جس شخص کے یہاں ایک بیٹی ہو اوراس پر لڑکوں پر ترجیح نہ دی گئی ہو تو اللہ اسے بہشت میں داخل کرے گا۔


  • اولاد کی تربیت

والدین پر اولاد کی پرورش کے ساتھ تربیت بھی فرض ہے ان کو چاہئے کہ وہ ان کو اچھی تعلیم وتربیت دے ۔اس میں دین و دنیا دونوں کا علم شامل ہے۔ تا کہ وہ معاشرے کے ایک اہم فرد بن کر اس کی فلاح کے لئے کام کریں ۔حدیث نبوی ﷺ ہے کہ ایک باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے بہر عطیہ اچھی تعلیم وتربیت ہے۔


  • نکاح میں رضامندی

جب بچے بڑے ہوجائیں تو ان کا فرض ہے کہ حسب توفیق مال خرچ کر کے ان کی شادی کر دیں اور نکاح کی شرط یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونون رضامند ہو اور یہ رضامندی جبراً نہ ہو۔اور خصوصیت کے ساتھ لڑکی رضامندی بے حد ضروری ہے ۔اگر لڑکی انکار کر دے تو اس جگہ شادی نی کی جائے ۔ایک مرتبہ ایک کنواری لڑکی نے آکر رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اس کے والد نے اس کا نکا ح کردیا ہے اور وہ اس سے ناخوش ہے تو آپﷺنے لڑکی کو اختیار دے دیا کہ وہ نکاح رکھے یا چاہے توڑ دے ۔


  • میراث

وراثت کے لئے حکم ہے کہ اولاد کو دیا جائے اور اس میں بیٹوں اور بیٹیوں کے حصے مقرر کیے گئے ہیں ۔ اسی کے مطابق تقسیم عمل میں لائی جائے ۔شریعت کے اصولوں کو ہر صورت مد نظر رکھا جائے۔



Post a Comment

0 Comments