آنٹی


پرسوں ویک اینڈ پہ گھر جانے کا ارادہ لیے ہوئے بس کا انتظار کر رہا تھا بس آئی میری سیٹ کے ساتھ ایک آنٹی کی سیٹ تھی جو پہلے سے ہی سیٹ پہ براجمان تھیں خیر میں نے ٹکٹ لی بس میں سوار ہوا آنٹی بیچ میں رستے والی سائیڈ پہ بیٹھی تھی میں بڑے مہزب انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا آنٹی پلیز آپ اس سائیڈ پہ ہو جائیں یہ کہنا ہی تھا کہ آنٹی بھڑک گئیں 

(وے میں تیری کہڑے حساب نال آنٹی لگنی آں۔ وے تینوں شرم نہ آئی مینوں آنٹی کہن لگیاں وے کنی عمر اے تیری؟) 

میری اکیس سال حیران ہو کر بڑی مشکل سے بتایا۔

(وے ہالے میری اٹھائیس سال عمر ہوئی اے۔  وے میری تا ہالے تک شادی وی نئیں ہوئی۔  آیا آنٹی دا کچھ لگدا۔ اپنی سیٹ کتھے ہور لبھ۔ ایتھے نئیں بہنا نئیں تے میرے تو برا کوئی نئیں ہوے گا )

خیر کنڈیکٹر نے اس کی منت سماجت کر کے مجھے بٹھایا میں بلکل کھڑکی والی سائیڈ کے ساتھ چپک کے بیٹھ گیا راستے میں سٹاپ آیا میں نیچے اترا کھانے کے کچھ لیا واپس بس میں گیا تو پھر میرے منہ سے نکل گیا آنٹی سائیڈ پہ ہو جائیے۔

(وے ٹٹ پینیاں, وے انا اے, وے عینکاں لوا لے، تینوں دسدا گھٹ اے , وے آپ تا توں چاچا لگدا ایں, وے تیرا ابا وی چاچا, وے تیرا دادا وی چاچا، وے تیرا پورا خاندان چاچے یاں دا ایتھوں اپنا سامان چک تے دفعہ ہو جا ہور کسے جگہ تے )

وہ تو بھلا ہو ایک انکل کا جنہوں نے اپنی وائف کو میری جگہ بھجا اور مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا آنٹی اسی طرح شروع تھیں انکل نے کہا سوری کر لو تبھی یہ ریڈیو خاموش ہو گا میں نے سوری میم اب نہی کہوں گا اسی طرح کے دو چار جملے بولے اتنے میں گھر سے کال آ گئی دوسری طرف امی تھیں میرے منہ سے نکل گیا جی میم بس پھر کیا تھا امی بھی شروع ہو گئی۔

(وے کہڑی میم؟ کمینیاں! وے ماں نوں وی کوئی میم آکھدا اے بھلا۔ وے گھر تے آ لے۔ دسدی ہاں تینوں۔ کہڑی میم دے چکراں وچ پیا ایں۔ جہڑی ہالے تینوں یاد اے............................... ۔.................)
کال کاٹی گھر جا کر جو عزت افزائی ہوئی وہ بتانے والی نہیں ہے
آج میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں پچاس سال سے کم عمر کی تمام عورتیں لڑکیاں ہی ہیں۔ 😢😢😢😢😢

Post a Comment

0 Comments