بولیاں دا ٹبر


کسی گاوں میں ایک آدمی رہتا تھا جو خود بھی بولا تھا اور اس کی بیوی بھی بولی تھی اور اس کا ایک لڑکا رشید عرف چھیدا وہ بولا تھا۔لہٰذا پورا کنبہ ہی بولوں کا تھا۔

چھیدا بڑا نیک اور محنتی لڑکا تھا۔ اس کا باپ بھی بڑا محنتی تھا۔ پورا گاؤں ہی ان کی بڑی عزت کرتا تھا۔ چھیدے کا باپ نوردین اپنی زمینوں پر کاشت کرتا اور بھی بہت سارے کام کرتا اچھا کھاتا پیتا گھرانا تھا۔

نوردین کو بس ایک ہی فکر تھی کہیں نہ کہیں چھیدے کی شادی ہو جائے تو ان کے گھر کی رونق بڑھ جائیگی۔ نوردین رشتہ تلاش کرتا رہا لیکن کوشش کے باوجود کہیں کام نہ بنا ۔ بہرے کو کون رشتہ دیتا ہے۔ بہرحال یہ لوگ بڑے تھے۔ ایک دن بولے کے گھر ایک آدمی آیا اس نے گھر بار دیکھا اور چھیدے کو دیکھا اور اسے یہ گھر پسند آگیا۔ اس نے چھیدے کو اپنے لڑکی کا رشتہ دے دیا۔ جس لڑکی کا رشتہ ملا وہ بھی بولی تھی۔

بڑی دھوم دھام سے یہ شادی انجام پائی نوردین اس کی بیوی اور چھیدا بڑے خوش تھے۔ چھیدے کی بیوی کے جہیز میں کافی سمان تھا جس میں گھریلو سامان کے علاوہ بیلوں کی ایک جوڑی بھی تھی۔

اسی طرح دو تین ماہ گزر گئے ایک دن چھٹا بیلوں کی جوڑی لے کر زمینوں پر گیااور ہل چلانے میں مصروف ہو گیا۔

ابھی آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ پولیس والا آیا اور بولے کو آواز دی، اور پوچھا: نور پور کونسا راستہ جاتا ہے؟ بولے کا رنگ اڑ گیا اس نے سمجھا کہ سپاہی کہہ رہا ہے کہ بیل چوری کے ہیں میرے ساتھ تھانے چلو۔ بولے نے ہل چھوڑا اور سپاہی کے پاؤں پڑ گیا، خدا کی قسم! یہ بیلا چوری کے نہیں یہ تو میری بیوی جہیز میں لائی ہے۔

اب پولیس والا سارا ماجرہ سمجھ چکا تھا میں نے رستہ پوچھا ہے اور یہ رو رہا ہے کہ بیل چوری کے نہیں  لہذا یہ بہرا ہے سپاہی نے غصے میں چھیدے کو تین چار تھپڑ مارے اور چلتا بنا۔

شیدا پھر کام میں مصروف ہو گیا اتنے میں چھیدے کی بیوی روٹی لے کر آ گئی۔
اور کہا کھانا کھا لو چھیدا جو غصے میں تھا اس میں بیوی کو مارنا شروع کر دیا چھیدے نے کہا یہ بیل چوری کے ہیں اب سپاہی مجھے پکڑنے آیا تھا۔

چھیدے کی بیوی بولی تھی اسکو بھی کچھ سمجھ میں نہ آیا اس نے سمجھا شاید کھانا دیر سے لائی ہوں اس لئے مار پڑی ہے۔

بولی مار کھا کے گھر آئی اور ساس کے اوپر چڑھ گئی کہنے لگی تمہاری وجہ سے مجھے مار پڑی ہے تم نے کھانا دیر سے دیا ہے ساس بہو کی لڑائی ہوگئی۔ بس اپنی اپنی بات کررہی تھی کیونکہ دونوں ہی بولی تھی۔

ساس نڈھال ہو گئی تو اپنے خاوند کے پاس آئی اور کہا کہ نور دینا یہ تو کسی بلا کی لڑکی ہے دیکھ میرا مار مار کر کیا حال کردیا ہے  نوردین بھی بہرا تھا اس کے بھی کچھ سمجھ نہ آیا بو لا چارپائی بن رہا تھا اس نے سمجھا کہ بولی کہہ رہی ہے کہ چارپائی ٹھیک نہیں بنی گئی اس نے داتری لے کر ساری چارپائی کے پرخچے اڑا دیئے یعنی کہ ساری چارپائی ہی کاٹ دی اور بولی سے کہنے لگا جاؤ جو اچھی بنتا بنتا ہے اسے بنا لو۔

بولی اور پریشان ہوگئیں۔ بولی بہو سے بھی مار کھا کر گئی تھی اور اور نوردین سے بھی مار کھائی شور سن کر گاؤں والے اکٹھے ہوگئے اور ان کو سمجھایا اور اور ان کی صلح کروائی۔

یہ تھا بولوں کا کا کارنامہ

Post a Comment

0 Comments