نیکی کا بدلہ بدی


ایک شخص جھاڑیوں کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا سانپ نے اس آدمی سے مدد کی اپیل کی اس آدمی نے لکڑی کی مدد سے سانپ کو باہر نکالا باہر آتے ہی سانپ نے اس آدمی سے کہا میں تو تمہیں ڈسوں گا اس شخص نے سانپ سے کہا کے میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی ہے تم میرے ساتھ بدی کرنا چاہتے ہو سانپ نے کہا ہاں نیکی کا بدلہ بدی ہےاس آدمی نے کہا چلو کسی سے فیصلہ کرا لیتے ہیں۔

وہ ایک گائے کے پاس گئے اسکو سارا واقعہ سنایا اور فیصلہ کرنے کو کہااس نے کہا واقعی نیکی کا بدلہ بدی ہے جب میں جوان تھی اپنے مالک کو دودھ دیتی تھی وہ میرا بہت خیال رکھتا تھا مجھے چارہ دیتا تھا اب میں بوڑھی ہو گئی ہوں اسنے میرا خیال رکھنا چھوڑ دیا یہ سن کر سانپ نے کہا اب تو میں  ڈسوں گااس آدمی نے کہا چلو ایک اور فیصلہ لے لیتے ہیں سانپ مان گیا انہوں نے ایک گدھے سے فیصلہ کروایا گدھے نے بھی یہی جواب دیا کے نیکی کا بدلہ بدی ہے جب میرے اندر دم تھا مالک کے کام آتا تھا وہ میرا خیال رکھتا تھا جو نہی میں بوڑھا ہوا اسنے مجھے بھگا دیا۔

سانپ اس آدمی کو ڈسنے ہی لگا تھا کے اس نے منت کر کے کہا ایک موقع اور دے دو سانپ کے حق میں دو فیصلے ہو چکے تھے اس لیئے وہ آخری فیصلہ لینے پہ مان گیا اب کی بار وہ ایک بندر کے پاس گئے اسکو سارا واقعہ سنایا اور کہا کے فیصلہ کرو بندر نے کہا مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو اور سانپ کو میرے سامنے ان جھاڑیوں میں پھینکو اور پھر باہر نکالو اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا وہ تینوں ان جھاڑیوں کے پاس چلے گئے اس شخص نے سانپ کو جھاڑیوں کے اندر پھینک دیا اور پھر باہر نکالنے ہی لگا تھا کے بندر نے منع کر دیا اور کہا اسکو مت نکالو یہ نیکی کے قابل ہی نہیں ہے اور نہ تھا ۔

خدا کی قسم وہ بندر ہم سے زیادہ عقل مند تھا ہم کو بار بار ایک ہی طرح کے سانپ مختلف ناموں اور طریقوں سے ڈستے ہیں لیکن ہم کو خیال ہی نہیں آتا کہ یہ سانپ ہیں انکے ساتھ نیکی اور ہمدردی کرنا خود کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے اس لیے بھائیو آپ بھی خیال کرو کہیں آپ کے اردگرد بھی اس طرح کے انسان نما سانپ تو نہیں۔۔۔

Post a Comment

0 Comments