ڈاکٹر اور مریض


ڈاکٹر اور مریض

نمبر:1

ڈاکٹر:طبیعت کیسی ہے؟
مریض:پہلے سے زیادہ خراب ہے۔
ڈاکٹر:دوائی کھا لی تھی۔؟
مریض:خالی نہیں تھی بھری ھوئی تھی۔
ڈاکٹر:میرا مطلب ہے۔ دوائی لے لی تھی۔؟
مریض:جی آپ ہی سے تو لی تھی۔
ڈاکٹر:بیوقوف۔ دوائی پی لی تھی۔؟
مریض: نہیں جی دوائی نیلی تھی۔
ڈاکٹر:ابے گدھے دوائی کو پی لیا تھا۔؟
مریض: نہیں جی پیلیا تو مجھے تھا۔
ڈاکٹر:الوکے پٹھے دوائی کو کھول ک منہ میں میں رکھ لیا تھا؟
مریض:نہیں آپنے ہی کہا تھا ک فریج میں رکھنا۔
ڈاکٹر:ابے کیا مار کھائے گا۔؟
مریض:نہیں دوائی کھائے گا۔
ڈاکٹر:نکل سالے تو پاگل کر دیگا۔
مریض:جا رہا ہوں۔پھرکب آؤں۔؟
ڈاکٹر:قیمت کے بعد۔
مریض:قیامت کے کتنے دن بعد۔؟
ڈاکٹربے ہوش۔۔


نمبر:2



یاداشت
ایک بچے کی یادداشت بہت کمزور تھی علاج کے لئے ڈاکٹر بلوایا گیا ۔ جب ڈاکٹر دوا  دے کر چلا گیا تو تھوڑی دیر بعد دروازے کی گھنٹی بجی پوچھا گیا کون ہے ؟

ملازم نے جواب دیا:  ڈاکٹر صاحب اپنا بیگ بھول گئے ہیں ۔

لو کر لو علاج


مسز جونز

ڈاکٹر(مریضہ سے ) مسز جونس ! میں آپ کو خوشی کی ایک خبر سنانا چاہتا ہوں ۔

مریضہ : میں مسز جونس نہیں ،مس جونسن ہوں ۔

ڈاکٹر : تب تو مجھے آپ کو بہت بری خبر سنانی پڑے گی ۔


انکساری

ڈاکٹر ۔ ’’اس وقت یہ اندازہ لگانا کہ تمہیں کون سی بیماری ہے ۔ ذرا مشکل ہے ۔ میرے خیال میں یہ نشے کی وجہ سے ہے ‘‘

مریض ۔’’بہت اچھا جناب !میں اب اس وقت آؤں گا جب آپ نشے میں نہیں ہوں گے ‘‘۔

شکریہ ،مہربانی ،نوازش ،کرم

ایک ہشاش بشاش نوجوان خوشی سے اُچھلتا  کودتا ناچتا ہوا ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور انتہائی مسرت بھرے لہجے میں بولا ۔

’’بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب ! مہربانی ،نوازش، کرم ،آپ تو واقعی کمال کے ڈاکٹر ہیں۔علاجِ مرض دور کرنے میں آپ کا مدِ مقابل نہیں ۔ یقین کیجئے آپ کے علاج سے مجھے زبردست فائدہ پہنچا ہے ۔

میں تمام عمر آپ کا ممنون ، آپ کا احسان مند رہوں گا ۔

ڈاکٹر نے غور سے اسے دیکھنے کے بعد کہا۔

’’مگر برخوردار! میں نے تو تمہارا علاج نہیں کیا ۔ ‘‘

’’میرا نہیں سر میری ساس کا علاج کیا تھا اور میں اسے ابھی ابھی دفن کرکے سیدھا قبرستان سے آپ کی طرف ہی آپ کا شکریہ ادا کرنے چلا آیا ہوں ۔‘‘

نوجوان نے اچھلتے ہوئے کہا ۔


کھانا

ڈاکٹر نے مریض سے کہا ۔’’میں نے جو تمہیں کھا نے کے لئے کہا تھا وہ تم نے کھایا؟‘‘

مر یض نے جواب دیا۔’’کوشش تو بہت کی تھی مگر کا میاب نہ ہو سکا۔

’’ڈاکٹر نے جھلا کر کہا ۔’’کیا بے وقوفی ہے ۔ میں نے کہا تھا کہ جو چیزیں تمہارا تین سا لہ بچہ کھاتا ہے ،وہی تم کھاؤ ۔ تم سے اتنا بھی نہ ہو سکا ۔

مریض نے بے بسی سے جواب دیا ۔’’ہاں ڈاکٹر صاحب ! لیکن میرا بچہ تو موم بتی ، کوئلہ ، مٹی اور جوتے کے فیتے وغیرہ کھاتا ہے ‘‘۔


خواب

ایک کسان ماہر نفسیات کے پاس گیا اور کہنے لگا ۔

’’جناب! آج کل میں بڑے برے خواب دیکھتا ہوں ۔ رات میں نے دیکھا کہ میں گدھا ہوں اور گھاس چر رہا ہوں ‘‘

کوئی فکر کی بات نہیں ۔ ماہر نفسیات نے کہا۔

’’خواب تو خواب ہے ،اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟‘‘

’’لیکن جناب ! جب صبح میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنی چٹائی چبا ڈالی تھی ‘‘۔

کسان نے معصومیت سے جواب دیا ۔


ڈائٹنگ

’’ڈاکٹر صاحب ! آپ نے مجھے ڈائٹنگ کا جو پروگرام دیا ہے وہ کافی سخت ہے ۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے میں غصیلی اور چڑچڑی ہوتی جا رہی ہوں ۔ کل میرا اپنے میاں سے جھگڑا ہو گیا ۔ اور میں نے ان کا کان کاٹ کھایا ‘‘۔

’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔ محترمہ ‘‘ ڈاکٹر نے اطمینان سے کہا۔

’’ایک کان میں سو حرارے ہوتے ہیں‘‘۔


کیوں نہیں

ذہنی امراض کے اسپتال سے ایک مریض کو رخصت کرتے وقت ڈاکٹر نے کہا ۔

’’آپ ہمارے علاج سے صحت یاب ہو گئے ۔ امید ہے اب تو آپ ہمارا بل ادا کردیں گے؟‘‘

مریض نے شاہانہ لہجے میں کہا۔

’’کیوں نہیں ۔اگر ہم نے تمہارا یہ چند لاکھ کا حقیر بل ادا نہیں کیا تو ہمیں اکبر بادشاہ کون کہے گا‘‘۔


بے ہودہ حرکات

مریض بے صبرے اور غصہ ور ڈاکٹر کو اپنے درد کے متعلق تفصیل سے بتا رہا تھا۔

’’درد میرے داہنے کندھے میں ہوتا ہے۔ جیسے ہی میں آگے کو جھک کر اپنا داہنا ہاتھ اور بایاں ہاتھ پھیلاتا ہوں ،کہنیاں الٹا کر کندھے جھکاتا ہوں اور پھر جب سیدھا کھڑا ہوتا ہوں تو میرے داہنے کندھے میں درد ہونے لگتا ہے۔ ‘‘

’’ اور تمہیں یہ خیال کبھی نہیں آیا کہ تم اس پُر اسرار درد سے پیچھا چھڑا سکتے ہو۔ بشرطیکہ اپنے جسم کی ان بے ہودہ حرکات سے گریز کرو‘‘۔

ڈاکٹر نے جھنجھلا کر کہا۔

’’میں نے یہ بھی سوچا تھا ڈاکٹر صاحب ‘‘۔ مریض نے بے حد خلوص سے کہا۔

’’لیکن اوور کوٹ پہننے کا کوئی اور طریقہ میری سمجھ میں ہی نہیں آیا‘‘۔


تسلی

دل کے مریض کا آپریشن ہونے والا تھا ، مریض بہت گھبرایا ہوا تھا ،نرس نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

’’تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کو تمہارے آپریشن میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی ۔ انہوں نے کل ہی ٹی وی پر بالکل اسی قسم کا آپریشن ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ‘‘


باخبر

ایک ڈاکٹر کسی شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کی غرض سے دوسرے شہر گیا۔ واپسی پر ایک دوست سے اس کی ملاقات ہوئی تو کہنے لگا۔

’’یار معاف کرنا تمہیں اطلاع دیۓ بغیر میں شہر سے باہر چلا گیا ۔ابھی آ رہا ہوں ‘‘

’’ہاں مجھے مقامی اخبار سے تمہاری غیر موجودگی کا علم ہو گیا تھا کیونکہ گزشتہ دو ہفتوں سے اپنے علاقے میں مرنے والوں کی تعداد برائے نام رہ گئی ہے‘‘۔

Post a Comment

0 Comments