بوجھو تو جانیں

بوجھو تو جانیں

رہتی ہے وہ جال بچھائے خود نہیں تھکتی سب کو تھکائے
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔۔۔
 جواب: سڑک

Post a Comment

0 Comments