عجب ان باکس کی غضب کہانی


عجب ان باکس کی غضب کہانی
ہمارے ایک فیسبکی دوست کی زبانی
مجھے فیس بُک جوائن کئیے ہوئے جمعہ ہفتہ دو ہی دن ہوئے تھے کہ فیس بُک کی طرف سے پیغام آنے لگے کہ
You may know this person : Add them to your friends list
اُن تصویروں پر اُچٹتی ہوئی نظر ڈالی تو دل ہی اُچاٹ ہوگیا- پڑوس کے پرویز صاحب، نُکڑ والوں کا نکمہ لڑکا بوبی، رشید پلمبر، تایا کی سالی کی داماد کے سب سے چھوٹے بیٹے کی بے بی سٹر, غرض کہ وہ سب جن سے حقیقی زندگی میں کسی قسم کے بھی رابطے کی کوئ حسرت ہے نا خواہش انہیں فیس بُک پر دوست بنالیا جائے-
ارے یہ کیا؟؟ ایک حنائی ہاتھ جس کی مخروطی اُنگلیوں نے ایک گلاب کی کلی کو اتنی سختی سے تھام رکھا ہے کہ خون کی بوندیں فرش پر گِر رہی تھیں - اففف اتنی حسین ڈی پی اور فیس بُک آئی ڈی "شمیم مسرت" –

کون کافر ہوگا جو اس زخم پر مرہم نہ رکھنا چاہے گا - بس یہی سوچ کے
 Add friend 
پر کلک کیا-
ایک سیکنڈ بھی نہ گُزرا تھا کہ نوٹیفیکشنن آئی
"شمیم مسرت" ایکسیپٹیڑ یور فرینڈز ریکویسٹ"
smile emotion
بس نا پوچھیے کہ ایسی مسرت ہوئ کہ دل میں برفی، رس گلے اور بالو شاہی پھوٹنے لگے- مانو ہفتِ اقلیم کی دولت ہاتھ آگئ - فوراً اُنہیں شُکریہکا میسج ان باکسا - اُدھر سے تُرنت جواب آیا:
"کوئی بات نہیں یہ تو میرا اخلاقی فرض تھا"۔
میں نے سوال پوچھا کہ : "کیا ہماری دوستی ہوسکتی ہے۔؟"
اُس نے بھی انگوٹھا
like emoticon
 دکھا کے فیس بُکی زبان میں اوکے کردیا
فاسٹ فارورڈ :
بس اب تو یہ عالم تھا کہ نا دن کو نیند نا رات کو کام ، نہ صبح کو سکون نا شام کو آرام ، نا کھانے کا ہوش نہ پینے کا، نہ جینے کا نا مرنے –
بس ہر وقت فون، ان باکس ، چیٹ، میں، وہ اور باتیں ہی باتیں -سیاست، آپی شاعری، زبیدہ آپا کے ٹوٹکے، عمیرہ احمد کے ڈرامے غرض کہ کون سا ٹاپک تھا جو ہم نے نا ڈسکسا پر آخر باتوں سے پیٹ کب تک بھرتا-تین دن بعد ہی میں نے ملاقات پر اصرار کرنا شروع کردیا - وہاں سے جواب میں تاخیر ہوئی تو میں نے بھی غصے میں لکھ دیا۔۔۔۔"ایک تو تُم نخرے بہت کرتی ہو۔"
دوسری طرف سے اُسی وقت ایک تصویر ارسال کی گئ جس میں ایک "داڑھی شدہ" آدمی تھا اور نیچے نام لکھا تھا "ش م" - شمیم مسرت ۔
مجھے تو اتنا غصہ آیا کہ نا پوچھیں بس یہی لکھ پایا:
۔۔۔"صوفی، تیرا ککھ نہ رہے، میں نے تو ماں کو بھی راضی کرلیا تھا۔"


Post a Comment

0 Comments