موت کی آواز

موت کی آواز از ناصر حسین
Mout Ki Awaz Novel By Nasir Hussain 
........ موت کی آواز .......

""""""""""""""""""""""""""""""""""""
رات کی سیاہی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی_ستاروں کو سیاہ بادلوں نے اپنی بانہوں میں چهپا رکها تها اس لیے اندهیرے کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا تھا. .دن کو جو علاقہ خوبصورت سماں پیش کرتا ہے رات کو وہی علاقہ وحشت کی تصویر بن جاتی ہے.  دن کو کھجوروں کے جو خوبصورت درخت علاقے کی خوبصورت میں چار چاند لگاتے تهے رات ہوتے ہی وہ درخت کوئی پراسرار مخلوق کا روپ دھار لیتے تھے. ........
پہاڑوں کے دامن میں واقع وہ خوبصورت علاقہ جس کا نام کلراچی تها وہ علاقہ اس وقت پوری طرح رات کی تاریکی میں نہا رہا تها. اس علاقے میں آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر تهی..ٹوٹل وہاں تقریباً بیس پچیس گهرانے آباد تهے. ان غریب لوگوں کے چولہے جل کر مدهم ہو چکے تھے. اس وقت سب لوگ نیند کی آغوش میں تهے . ساری دنیا سے بے خبر ، ہر شے سے لاتعلق. ..........
لیکن اچانک ایک پل میں اس خاموش علاقے میں ایسی بهیانک آواز گونجی کے مردے بھی جاگ جائیں. .سب علاقے والوں کی نیند اڑ گئی تھی سبهی وحشت زدہ ہو کر ایک دوسرے کو دیکهنے لگے...........
دل دهک دهک کر رہا تها ..بچے اور عورتیں تو دور اس آواز سے بڑے سے بڑے بہادر بھی کانپ رہے تھے وہ آواز تهی ہی ایسی ........
ایک بار پھر وہ آواز گونجی پورے علاقے میں. .ہر طرف ڈر کا سماں پیدا ہو گیا...وہ آواز اتنی اونچی تهی کہ دور دور تک سنائی دی. ..بے شک وہ آواز کسی انسان کی نہ تهی.....وہ آواز کس کی تهی یہ کوئی نہیں سمجھ پا رہا تها....ہاں سب اتنا سمجھ رہے تھے وہ آواز اس علاقے کے ایک رہائشی کا نام لے رہا تها...............
وہ آواز کس کی تهی اور وہ اس آدمی کا نام کیوں لے رہا تها ...ایک آخری بار وہ آواز ایک بار پھر پورے علاقے میں گونجی........
وہ آواز دور دور فاصلے سے گونج رہی تھی. .اور ایسا لگ رہا تها وہ آواز آسمان سے کہیں گونج رہی ہے..آواز حد سے زیادہ خوفناک تها ...سب کے پسینے چھوٹ رہے تھے. ............
تهوڑی ہی دیر میں سارے علاقے والے بندوقیں اور اسلحے لیے اس آواز کے تعاقب میں گهروں سے باہر نکل آئے...وہ لوگ ساری رات پورے علاقے میں پھرتے رہے. .لیکن وہ آواز دینے والا تو دور اس کے پاوں کے نشان تک بهی نہ تهے.........
سب کے ذہن میں ایک ہی سوال تها وہ آواز کس کی تهی. .اور کیوں تهی....کہاں سے آ رہی تھی. .اور وہ اس علاقے کے ایک رہائشی کا نام کیوں لے رہا تها..لیکن کسی کے پاس بھی ان سب سوالات کے جواب نہیں تهے...........
______________________
رات کی سیاہی دن کی روشنی میں تبدیل ہو گئی. ہر طرف جیسے زندگی دوڑ گئی. .سبهی لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تهے..رات والی بات اگر کوئی بهلا نہیں پا رہا تھا تو وہ اس وحشت ناک آواز کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتے تھے. .............
اسی علاقے میں ایک عورت اپنے دو سالہ بیٹے کو لیے تالاب میں کپڑے دھونے جا رہی تھی. .وہ ہر شے سے لاتعلق تهی اس کے ذہن میں اس وقت کوئی خیال نہ تها...وہ ایک ایک قدم آگے بڑھ رہی تھی. .لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی اس کا بڑهتا ہر قدم اسے موت کی طرف لے جا رہا ہے. ..وہ بیچاری نہیں جانتی تھی کہ اس کی سانسیں گنتی کی رہ گئیں ہیں اسے نہیں معلوم تها کہ تهوڑی دیر بعد اس کا دل دهڑکنے سے انکار کر دے گا......
ایک سوچ جو وہ سوچ رہی تھی اور ایک سوچ جو اس کے لیے سوچا جا چکا تھا. ..ایک منزل جس تک وہ پہنچنے والی تھی لیکن منزل تو شاید اس کے لیے پہلے ہی تعین ہو چکی تھی. .........
وہ گہرے تالاب کے کنارے کپڑے دھونے میں مصروف ہو گئی.اس کا بیٹا پاس ہی بیٹها پتهروں کے ساتھ کهیل رہا تها. . .ہوا کے ٹهنڈے جھونکے اس کے جسم سے ٹکرا کر اس کے اندر سردی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے. .مگر وہ پہاڑوں کی رہنے والی تهی اتنی معمولی سے ہواؤں سے وہ نہیں گهبراتی..........
اس کا وہ چهوٹا بیٹا پانی میں پتهر پهینک رہا تها اچانک اسے زور دار آواز سنائی دی کچھ گرنے کی آواز. ...اس نے تیزی سے گردن موڑ کر دیکها تو اپنے بچے کو غائب پایا...جیسے ہی اس نے تالاب میں نگاہ ڈالی تو اس کی تو جیسے جان ہی نکل گئی اس کا بچہ پانی میں ڈوب رہا تھا. ....
وہ ایک ماں تهی. ایک عورت ہر رشتے میں فیل ہو سکتی ہے لیکن وہ ماں کے رشتے میں کهبی فیل نہیں ہوتی ..بنا ایک پل سوچے سمجھے اس نے اپنے بچے کو بچانے کے لیے اسی تالاب میں چھلانگ لگا دی. ...........
دور کهیتوں میں کام کرتے لوگوں نے اس عورت کو پانی میں گرتے دیکھ لیا تها اس لیے وہ بهاگتے ہوئے اس کی طرف آ رہے تھے. ..وہ عورت اپنے بچے کو ہاتھوں میں لیے ایک بار ظاہر ہو جاتی لیکن اگلے ہی لمحے وہ پهر ڈوب جاتی. ..........
بات بڑھتے بڑھتے پورے علاقے تک پهیل گئی. .اس تلاب میں سے ان کی لاشیں بھی نہیں مل رہیں تهیں..دور دور سے لوگ ان کی لاشیں نکالنے آئے.بڑی مشکل اور بڑی محنت کے بعد علاقے کے کچھ تیراکی لوگ ان کی لاشیں نکالنے میں کامیاب ہوئے.......
______________________________
اور اگلے ہی لمحے پورے علاقے میں اس ماں بیٹے کی موت کی خبر پهیل گئی. ..اور صرف وہ دو ماں بیٹے نہیں تهے اس عورت کے پیٹ میں ایک نیا وجود بھی پروش پا رہا تھا. ..وہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گیا. ..اور اس طرح ایک ہی دن تین تین لوگ زندگی کی بازی ہار گئے. ......
کیا آپ کو معلوم ہے وہ عورت کون تهی.....؟؟؟
وہ عورت اسی آدمی کی بیوی تهی جس کا نام کل وہ بهیانک آواز لے رہا تها... وہ آواز کس کی تهی یہ تو کوئی نہیں جان سکا لیکن وہ پراسرار آواز موت کی آواز تهی........
کہتے ہیں اس آدمی نے زمینی تنازع پہ جهوٹا حلف لیا تها اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی تهی.اور اس نے ایک زمین کا ٹکڑا جیت کر تین زندگیاں ہار دیں..... ..........
جس دن آو گے معجزات کی زد میں___
تب معلوم ہو گا قرآن کیا ہے ___
___________________________
دوستو یہ بالکل سچی کہانی ہے جو میرے ابو (احمد بخش) کے دور میں پیش آیا..میں آج بھی جب اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں...یہ کہانی مجھے ابو نے بچپن میں سنائی تهی لیکن آج بھی یہ واقعہ میرے ذہن میں ویسے ہی تازہ ہے..یہ تیس سال پہلے کی بات ہے لیکن آج بھی یہ واقعہ لوگوں کے لیے عبرت کی نشانی ہے_______

اللہ ہم سب کے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا فرمائے. .اور میرے والدین کو لمبی صحت مند زندگی دے _اور میری ایک سپیشل خواہش بھی اللہ کرے پوری ہو....آمین. .

___________________________

Post a Comment

0 Comments