معافی اور توبہ


جب ایک آدمی کا وقت مرگ قریب آیا تو اس نے اپنے رشتہ داروں کو پاس بلایا اور رو کر اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے لگا۔ زندگی میں اگر کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو، کسی کا حق مارا ہو یا کبھی کسی کا دل دکھایا ہو، ہر چیز کے لیے معذرت کرنے لگا۔ اسکے ارد گرد جمع لوگوں میں ایک پانچ سال کا معصوم بچہ بھی موجود تھا۔ جسے اس پوری کیفیت کی بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کافی دیر یہ سب سننے کے بعد وہ آگے بڑھا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑ کر بولا
" دادا جی ! آپ سب سے معافی کیوں مانگ رہے ہیں ؟ " بڑی حیرانی سے اس نے سوال کیا
" بیٹا ! جب کسی کا اللہ پاک کے پاس جانے کاوقت آجاتا ہے تو جانے سے پہلے اسے اپنی جانے انجانے میں کی ہوئی غلطیوں کی معافی مانگ لینی چاہیے۔ میں اس لیے معافی مانگ رہا ہوں، اگر ان لوگوں نے مجھے معاف کردیا تو اللہ پاک بھی مجھے معاف کردیں گے" پیار سے اس نے جواب دیا
" لیکن ہماری ٹیچر تو کہتی ہیں کہ معافی تب ہی قبول ہوتی ہے جب کوئی دل سے معاف کرے، آپ تو جا رہے ہیں پھر کیسے پتہ چلے گا کہ سب نے آپکو دل سے معاف کیا؟ آپکو تو پہلے معافی مانگ لینی چاہیے تھی تا کہ تسلی کر کے جاتے کہ حقیقی معافی مل گئی" اس بچے کی بات کا جواب نہ تو اس آدمی کے پاس تھا اور نہ ہی وہاں موجود کسی اور کے پاس۔

کیا معافی مانگنے کے لیے ضروری ہے کہ آخری سانسوں کا انتظار کیا جائے؟ چاہے پھر اس مانگی ہوئی معافی کی قبولیت ہو بھی یا نہیں۔ موت کا وقت ضرور مقرر ہے پر یہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ وقت ہے کونسا۔ خطا ہر انسان سے ہوتی ہے پر جیسے ہی احساس ہو اسکی معافی اسی وقت مانگ لینی چاہیے۔ موت کبھی مہلت نہیں دیتی۔

Post a Comment

0 Comments