پاگل لڑکی


رشتہ طے ہونے کے بعد سے اب تک یہ اسکی تیسری کال تھی اور ہم دونوں کے رشتہ طے ہوۓ  کو محض ایک ہفتہ ہی ہوا تھا

مجبوراً میں نے کال وصول کی۔ علیک سلیک کے بعد رسمی خیریت کا تبادلہ بھی ہوا۔

دیکھیں صبا رزق کا ضیاع اچھی بات نہیں۔۔۔ میں نے بنا تمہید باندھے سنجیدگی سے کہا

کیا مطلب؟؟؟ صبا نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس براہِ راست جملے پر استفسار کیا

یہی روز روز کی کال اور کیا۔۔۔ دوسری طرف سے جواب آیا

کیااا؟؟  کیا مطلب آپکا؟؟ میں سمجھی نہیں ؟؟ حیرانی اسکے لہجے سے جھلک رہی تھی
آپکو کال کرنا رزق کا ضیاع کیسے ہوا بھلا؟ اس نے تشریح طلب انداز میں پوچھا

صبا رزق فقط روپے پیسے یا اشیائے خوردونوش کا نام نہیں ہے۔رزق کا لفظ اللہ تعالی کی طرف سے بندوں کو عطا ہونے والی ہر عنایت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ میں نے سمجھانے والے انداز میں کہا

مثلاً؟؟؟ صبا نے دلچسپی سے سوال کیا

مثلاً لباس، اچھی صحت، گھر، خوشی ، زندگی ، غرض ہر وہ چیز جو ضروریات زندگی میں شامل ہو۔اور آپ یہ تو جانتی ہی ہونگی کہ ہر مخلوق کے حصے کا رزق ایک مخصوص مقدار میں پہلے ہی لکھا جا چکا ہے۔ 

جیسا کہ کون کتنی سانسیں جیے گا، پانی کے کتنے گھونٹ اور اناج کے کتنے اسکی شکم سیری کریں گے یہ سب ایک مخصوص تعداد اور مقدار میں ہر مخلوق کے حصے میں لکھ دیا گیا ہے۔ یوں سمجھیں ایک کوٹہ مختص کر دیا گیاہے۔ کوئی بھی اس سے زیادہ لے سکتا ہے نہ کم۔

جی بالکل آپ نے بالکل صحیح کہا۔ اس نے اتفاق کیا

اور اگر ہم صحیح وقت سے پہلے یا بنا ضرورت اس ذخیرہ کو استعمال کرنا شروع کردیں تو آپ جانتی ہیں کیا ہوگا؟ 

جی ۔۔۔ ضرورت باقی رہ جائے گی اور رزق ختم ہوجائے گا۔ 

بالکل صحیح سمجھیں آپ ۔۔۔اورصبا میرا ماننا ہے کہ جذبات اور احساسات بھی ہمارے مقدر میں رزق کی طرح لکھ دیے گیے ہیں یعنی کہ ہم کس سے کتنی محبت کریں گے اور کتنی نفرت یا کتنا عرصہ ساتھ رہیں گے اسکا بھی ایک کوٹہ مختص کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح آپ کے اور میرے ساتھ کا بھی عرصہ مقرر کیا جا چکا ہے لمحے مختص کیے جا چکے ہیں محبت کی مقدار اور شدت متعین کی جا چکی ہے۔ ہنسی، قہقہے، باتیں سب لکھے جاچکے ہیں۔ 
 صبا کیا آپ چاہیں گی ہم دونوں کے حصے کا رزق وقت سے پہلے ختم ہو جائے؟؟ میں نے کچھ توقف کے بعد پوچھا
وہ کچھ بول ہی نہیں پائی شاید وہ سب سمجھ گئی تھی
صبا ۔۔۔ میں نے رسان سے پکارا
جی۔۔۔ اس نے دبی ہوئی آواز میں جواب دیا

آپ سے باتیں کرنے کا۔۔۔ آپ کے ساتھ وقت بتانے کا۔۔۔۔۔۔
اپنے ماضی کے خوشگوار قصے سنانے کا۔۔۔ ہنسی مذاق کرنے کا۔۔۔۔۔
اپنی شرارتیں ۔۔۔ اپنی بےوقوفیاں۔۔۔ اپنی پسند نا پسند۔۔۔۔ 
اپنی کامیابیاں۔۔۔ ناکامیاں ۔۔۔ اپنی خوشی اپنا غم آپ سے بانٹنے کا میرا بھی بہت دل کرتا ہے لیکن۔۔۔۔۔ میں یہ سب انمول اور یادگار لمحے اس فون کے پیچھے بے تصویر کی آواز کے ساتھ نہیں گزارنا چاہتا۔ “میں” “ہمارے” حصے کا رزق وقت سے پہلے ختم کر کے بعد میں فاقوں مرنا نہیں چاہتا۔ میں چاہتا ہوں ہم “ہمارے” حصے کے رزق اور رفاقت کا لطف بھرپور طریقے سے اٹھائیں اسطرح آدھا ادھورا نہیں۔ 

 کیا آپ نہیں چاہتیں کہ ان سب خوشگوار لمحوں کو ہم ملکر ایک ساتھ جیئیں ایک دوسرے کی آنکھوں کی چمک کو روبرو بیٹھ کر دیکھیں؟؟ ایک دوسرے کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر خوش ہوں؟؟ 
دوسری جانب مکمل گہری خاموشی تھی۔
صبا میں نہیں چاہتا کہ جب میں آپ سے بات کروں اور آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آئے تو میں اسے دیکھ نہ پاؤں۔ 
میں نہیں چاہتا کہ جب میں آپ سے اپنی کسی مشکل کا ذکر کروں تو آپ کے چہرے پر اپنے لئے فکرمندی نہ دیکھ پاؤں۔میں نہیں چاہتا خدانخواستہ جب مجھے کسی ناکامی کا سامنا ہو تو آپ مجھے اپنے ہونے کا احساس فقط لفظوں سے دلائیں۔
اپنی کامیابی پر آپکی تھپکی میں اپنے کاندھے پر محسوس کرنا چاہتا ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ کے گالوں کی اس سرخی کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں جو میرے پہلی بار آپکو دیکھنے پر آپ کے گالوں پر نظر آئی تھی۔
میں اپنے لطیف جذبات کے اظہار کے لیے استعارات کا کمزور سہارا لینا نہیں چاہتا۔
میں اپنا یہ تمام رزق اسطرح ضائع نہیں کرنا چاہتا صبا۔۔۔۔میں یہ سب لمحے آپ کے ساتھ آپکی رفاقت میں جینا چاہتا ہوں۔ میں نے قدرے بے بسی سے کہا جیسے سمجھا سمجھا کر تھک گیا ہو۔

اب فیصلہ آپ کا ہے ۔۔۔کہ آپ رزق کا ضیاع چاہتی ہیں یا اسکا بھرپور طریقے سے لطف اٹھانا چاہتی ہیں؟؟ اس نے حتمی انداز میں کہا

“اوکے اللہ حافظ” اس نے اسے جواب دینے کا موقع دیے بنا ہی مسکراتے ہوئے جھٹ سے کال کاٹ کر اپنا فیصلہ سنا دیا

“پاگل لڑکی” میں نے بھی ہنستے ہوئے فون ایک طرف رکھ دیا۔

ہم دونوں نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ نکاح سے پہلے کبھی بات نہیں کرینگے..

" خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وہ بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے" 

( سورہ بنی اسرائیل, آیت:- 32 )

Post a Comment

0 Comments