منظور خدا





منظور خدا

"یااللہ!!! یہ بندہ میرا پیچھا کیوں کر تا ہے؟؟؟ میری زندگی میں پہلے کیا کم مشکلات ہیں؟؟؟"
وہ آج بھی دل ہی دل میں اپنے #اللہ سے مخاطب تھی- وہ بلیک کرولا کار آج بھی اس سے کچھ فاصلے پر اس کے پیچھے تھی- اس کے قدموں کی رفتار مزید تیز ہو گئی تھی- وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی-
¤¤¤¤¤¤¤¤
"ہر وقت چرتی ہی رہتی ہے کوئی کام نظر نہیں آتا تجھے....؟" پہلا نوالہ منہ میں رکھا ہی تھا کہ پھوپھی جی کی میٹھی آواز نے کانوں میں رس گھولا-
"چرنے کو تو جیسے تازہ گھاس دی ہے نا مجھے!!" ابیہا سوچ کر رہ گئی- شدید بھوک ہونے کے باوجود نوالہ حلق سے اترنا اب دشوار تھا-
"خدا کسی کو یتیم بھی نہ کرے" آنسوؤں کا گولہ حلق میں اٹک گیا-
"میرا منہ ہی دیکھتی رہو گی یا کسی کام کو بھی ہاتھ لگاؤ گی ؟؟" ایک اور تیر پھوپھو کی طرف سے پھینکا گیا- وہ برتن سمیٹتی کچن کی طرف مڑ گئی- کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جہاں بات کی اہمیت نہ ہو وہاں بات کرنا فضول ہے-
‏‎¤¤¤¤¤¤¤¤‎بیہا ملک--- ماں باپ اکلوتی اور لاڈلی اولاد تھی- مگر قسمت ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی- وقت کا پہیہ گھوما- ماں باپ ملک عدم سدھار گئے اور وہ اپنی اکلوتی پھوپھو کے در پر آ بیٹھی- ان کی بھی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا- مائرہ اور سائرہ اس سے عمر میں کافی بڑی تھیں مگر عمیر اس کا ہم عمر تھا اور ہمدرد بھی-
یہی ہمدردی ابیہا کیلئے وبال جان بن چکی تھی- پھوپھی کی دونوں بیٹیاں اسے مفت کا غلام سمجھتی تھی - پھوپھا کی اس کے والد سے کافی دوستی تھی اس دوستی کے سبب وہ آج اس گھر میں موجود تھی ورنہ پھوپھو کو اس سے کوئی ہمدردی نہ تھی-
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
"باتیں تو تم ویسے بھی کم کرتی ہو مگر آج کل میں نوٹ کر رہی ہوں تم کچھ زیادہ ہی خاموش ہو... وجہ کیا ہے؟؟؟؟"
آخر ماریہ سے رہا نہ گیا تو اس نے ابیہا سے پوچھ ہی ڈالا-
"نہیں..... تمھارا وہم ہے-" وہ اس وقپ کالج کے لان میں بیٹھی تھیں ابیہا سامنے پھولوں کو گھور رہی تھی - ماریہ کی بات پر وہ چونک گئی 
"ناجانے کیسے بنا کہے یہ میرے دل کا حال جان لیتی ہے! اتنی تو میرے خونی رشتے بھی میری پرواہ نہیں کرتے" اس کی آنکھیں دھندلا گئیں_
"مجھے ٹالنے کی کوشش مت کرو اور سیدھی طرح پھوٹو کہ مسئلہ کیا ہے-گھر میں کسی نے کچھ کہا ہے؟؟؟" وہ اس کی رازدان تھی تمام حالات سے واقف---! 
"گھر میں کب کوئی کچھ نہیں کہتا- میں اب پرواہ نہیں کرتی" وہ اداسی سے مسکرائی-
"اس کی مسکراہٹ خوبصورت ہے مگر اداس زیادہ." ماریہ سوچ کر رہ گئی-
تو پھر؟؟؟ کچھ نیا ہوا ہے؟؟؟ وہ متجسس نظر آئی-
__________
"ہاں یار---- آج کل ایک کار مسلسل میرا پیچھا کر رہی ہے میں بہت پریشان ہوں تم جانتی ہو نا پھوپھو کو اگر بھنک بھی پڑ گئی تو رائی کا پہاڑ خود ہی بنا لیں گی-" وہ رونے کو ہر وقت تیار رہتی تھی-
"اس کار والے نے تم سے کوئی بات کی ہے؟؟؟" وہ بھی فکر مند نظر آئی
"نہیں" ابیہا نے نفی میں سر ہلایا-
"ہو سکتا ہے یہ تمھارا وہم ہو ورنہ اس نے اب تک تم سے بات کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟؟؟" ماریہ نے قیاس آرائی کی-
"اللہ کرے !!! یہ میرا وہم ہی ہو- پہلے بھی عمیر کی ہمدردی میرے لیے وبال جان بن چکی ہے-" ایک آنسو گرا تھا-
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
آج کالج سے واپسی پر ایک اور دھماکہ اس پر ہوا- وہ کار آج اس کے پیچھے نہیں تھی بلکہ اس کے سامنے گلی کے وسط میں کھڑی تھی-
‏"یااللہ!! یہ کیا ماجرہ ہے؟؟؟" اس کا دل اچھل کر حلق میں آ چکا تھا- ہر اٹھتا قدم اس میں خوف پیدا کر رہا تھا- اس نے ہمت کر کے قدموں کی رفتار تیز کی- جب وہ گاڑی کے عین سامنے پہنچی تو کار کا دروازہ کھل گیا اس میں سے ایک شخص برامد ہوا مگر ابیہا میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اسے ایک نظر دیکھ لیتی-
‏"ایکسکیوزمی" اسے لگا آسمان اس پے آ گرا ھے.......!!!!
‏۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
"مس ابیہا!!! میں آپ سے مخاطب ہوں" اب آواز قریب سے آئی تھی- بہت سلجھا اور مہذبانہ لہجہ--- اس نے مڑ کر دیکھا وہ بلیک تھری پیس سوٹ میں تھا شاید آفس سے آ رہا تھا-
"آپ---- کون؟؟؟؟" ابیہا بہت اعتماد سے بولی - حالانکہ وہ جانتی تھی وہ اتنی بااعتماد نہیں تھی-مگر وہ ایک لمحے میں ہی جان گئی تھی کہ جو شخص اس کا نام جانتا ہے وہ اور بھی بہت سی معلومات رکھتا ہو گا-
مجھے ہمدان ربانی کہتے ہیں بہت عرصے پہلے آپ کو دیکھا تھا کسی گیٹ ٹو گیدر میں..... آپ مجھے اچھی لگیں تھی کافی دن سے آپ سے بات کرنا چاہ رہا تھا مگر ہمت نہیں ہو پا رہی تھی- میں بہت سمپل اور سادہ بندہ ہوں سیدھی بات کروں گا آپ سے شادی کا خواہش مند ہوں اپنے گھر والوں کو آپ کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں آپ سے صرف اتنا پوچھنا ہے کہ آپ کوئی اور پسند تو نہیں ہے-" وہ واقعی بہت سمپل تھا- بنا کسی تمہید کے بڑی آسانی سے اپنی بات مکمل کر چکا تھا لمحے بھر میں وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے...
‏"مجھے کوئی بھی پسند نہیں" وہ کافی کھردرے لہجے میں کہتی تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ گئی تھی- ہمدان اس کے الفاظ سے اپنی مرضی کا مطلب اخذ کر کے مسکرا اٹھا...
___________
"تم ابھی تک یہی براجمان ہو؟ جب دیکھو کتابی کیڑا بنی رہتی ہے کبھی کسی کام کو بھی ہاتھ لگا لیا کرو-" وہ کمرے میں بیٹھی ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی جب پھوپھو کی آواز سن کر اچھل پڑی-
"لیکن پھوپھو میں تو سارا کام ختم کر کے ہی تو بیٹھی تھی" ابیہا حیران ہو کر پھوپھو سے کہہ تو بیٹھی تھی پر اگلے ہی لمحے وہ اپنے کہے پر خوب پچھتائی-
"ہاں ہاں میرے گھر کو جیسے تم نے ہی سنبھال رکھا ہے نا آج تک میں نے اور میرے بچوں نے تمھاری حق تلفی نہیں کی ہمیشہ ہماری چیزوں پر تم کنڈلی مار کر بیٹھ جاتی ہو بچپن سے لے کر آج تک ہم نے کبھی تمھارے نوالے نہیں گنے اور تم ہمیں باتیں سناتی ہو؟؟" پھوپھی جان نے آج اس پر الزامات کی بارش کر دی وہ جس نے کبھی خواہشات کا ان کے سامنے ذکر تک نہ کیا تھا اور وہ اس پر اس قدر سنگین الزام تراشی کر رہی تھیں-
‏"لیکن پھوپھو میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا؟؟" ابیہا گبھرا کر بولی تھی-
‏"تم کہتی کب ہو تم تو کر دکھاتی ہو" وہ جانے کیوں آج اتنی سیخ پا تھیں-
‏"مجھ سے میرا بیٹا چھیننا چاہتی ہو نہ جانے کیا جادو کر دیا ہے تم نے اس پر ہر وقت تمھارا ہی راگ الاپتا رہتا ہے لیکن میری بات کان کھول کر سن لو میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی یہ خواب دیکھنا چھوڑ دو میں اپنے بیٹے کی شادی کسی امیر لڑکی سے کروں گی صرف اچھی شکل کا اچار نہیں ڈالنا میں نے "
وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال کر جا چکی تھیں لیکن وہ سن دماغ کے ساتھ اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی آنسو اس کے روئی جیسے خوبصورت اور گداز گالوں پر لڑھک آۓ تھے-
"اپنا بیٹا قابو میں نہیں آتا تو غصہ مجھ پر نکالتی ہیں-" روتے ایک یہی خیال تھا جو اس کے ذھن میں آیا تھا-
‏¤¤¤¤
ابھی کچھ وقت پہلے ہی تو عمیر نے اپنی پسند کا اظہار کرتے ہوۓ کہا تھا کہ وہ ابیہا سے شادی کرنا چاہتا ہے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ شکیلہ بیگم خاموش رہتیں؟؟ بیٹے نے تو نہ اثر قبول کرنا تھا اور نہ کیا مگر ابیہا کو وہ خوب اچھی طرح لگام ڈالنا جانتی تھیں جو بنا قصور کے ایک بار پھر پسی تھی -
‏^^^^^^
دروازے پر کھڑی اجنبی عورت اور اس کے ساتھ کھڑے نوجوان کو شکیلہ بیگم نے حیرت سے دیکھا-
‏"جی ! آپ کون میں نے پہچانا نہیں؟؟"
‏"سب بتاتی ہوں بہن پہلے اندر تو آنے دیں.." مسزربانی خوشگوار لہجے میں گویا ہوئیں-
‏"جی آئیے" وہ کشمکش میں گھری ان کو اندر لے آئیں-
‏"یہ میرا بیٹا ہے ہمدان ربانی، ربانی گروپ آف انڈسٹریز کا اکلوتا وارث اور میرا لاڈلا بیٹا میں اپنے بیٹے کے لیے آپ کی بھتیجی کا رشتہ مانگنے آئی ہو مجھے یقین ہے آپ کو اعتراض نہیں ہو گا-" مسز ربانی کے لہجے میں غرور تھا اپنے بیٹے کے لیے جو بالکل ٹھیک تھا-
‏"آپ لوگ کیسے جانتے ہیں میری بھتیجی کو؟؟؟" ان پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے ابیہا کیلیۓ آۓ اس شاندار رشتے کو دیکھ کر...
‏"دراصل میرے بیٹے کی خواہش ہے ابیہا اسے بہت پسند ہے-" وہ صاف گوئی سے بولیں.... شکیلہ بیگم نے ایک نظر اس بھرپور جوان شحص کو دیکھا جو بلیک تھری پیس سوٹ پہنے امپورٹڈ شوز اور مہنگی ترین گھڑی باندھے حسن و وجاہت کا شاہکار معلوم ہوتا تھا - ساری کہانی ان کو سمجھ آ چکی تھی اور انھیں معلوم تھا کہ آگے انھوں نے کیا کرنا ہے.....
‏~~~
میں معذرت چاہتی ہوں مگر وہ ابھی پڑھ رہی ہے اور اس سے بڑی ہماری دو بیٹیاں ابھی کنواری ہیں ابیہا کی شادی کا ابھی ہمارا کوئی ارادہ نہیں ویسے بھی وہ مجھے اپنے بیٹے کے لیے پسند ہے" وہ اپنا کارڈ باخوبی کھیل چکی تھیں- اب وہ سامنے والوں کے تاثرات کا جائزہ لے رہی تھیں- مسز ربانی تو نارمل تھیں مگر ہمدان ربانی کا تو جیسے سارا خون ہی چہرے پر لالی بن کے بکھر چکا تھا...
‏"مگر آنٹی..............." اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا مسز ربانی نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا...
‏"ہمیں دیر ہو رہی ھے ہمدان ہمارا وقت اتنا فضول نہیں " وہ ساڑھی کا پلو اور بیگ سنبھالتے اٹھ کھڑی ہوئیں- چاروناچار ہمدان کو بھی تقلید کرنی پڑی- 
"بیٹی آپ کی ہے جو مرضی فیصلہ کریں لیکن ایک بار سوچیۓ گا ضرور"‏
ہمدان کے لہجے میں وارننگ تھی جسے کوئی نہ سمجھ پایا....



زندگی سب کیلیے ہی کسی نہ کسی موڑ پے تلخ ہوتی ہے مگر اس کی زندگی میں آنے والا ہر موڑ ہی تلخ تھا------
‏"آگئی منہ کالا کر کے حرافہ! اب ٹھنڈ پڑ گئی تیرے کلیجے میں" ابیہا نے ابھی گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ پھوپھو کسی چیل کی طرح اس پر جھپٹی وہ اس سنگ باری پر بھوکھلا کر رہ گئی-
‏"ارے میں پوچھتی ہوں تجھے کالج پڑھنے بھیجا تھا یا آوارہ گردی کرنے؟؟؟"
‏"پھوپھو ہوا کیا ہے؟؟"
‏"تیرا یار رشتہ لے کر آیا تھا آج .... کہیں کا نہ چھوڑا تم نے ہمیں اب اپنے ہوتو سوتو کو بھی گھر کا رستہ دکھا دیا" وہ ہاتھ نچا نچا کر بول رہی تھیں.
‏"جی!!!!!" اسے ایسا لگا لاونج کی چھت اس پر آ گری ہو-
‏"اب تو بڑی معصوم بن رہی ہو...." مائرہ بھی کیوں پیچھے رہتی:؟؟
‏"منہ کالا کرتے ہوۓ شرم نہ آئی تمھیں؟؟ ہم دونوں سے چھوٹی ہو مگر حرکتیں دیکھو اپنی" یہ سائرہ کی اواز تھی جو اس وقت دودھ کی دھلی بن رہی تھی چچچ بے چاری ابیہا تو سچ بھی نہ بول پاتی اتنی صفائی سے....
پھر جو وہ تینوں شروع ہوئی تو پیچھے مڑ کے نہ دیکھا تھک ہار کر اس پے لعنت ملامت کرتی لاؤنج سے نکل گئیں وہ بمشکل قدم گھسیٹتی روتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی آئی- اتنا تو سمجھ چکی تھی کہ وہ گاڑی والا ہی تھا......!!!
تو کیا وہ واقعی مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے؟؟؟ مگر کیوں؟؟ وہ تو اتنا امیر ہے... غریب تو خیر پھوپھو لوگ بھی نہیں مگر میرے پاس تو کچھ نہیں یہ سب تو مائرہ لوگوں کا ہے... افففف میں یہ سب کیوں سوچ رہی ہوں؟؟ اور میں رو کیوں رہی ہوں؟؟ یہ پہلی تو نہ تھا یہ تو روز کا ڈرامہ ہے... وہ سر جھٹک کر واشروم ‎میں گھس گئی‎ ‎ابھی اسے بہت کام تھے ابھی سوگ منانے کا وقت نہ تھا...
‏^^^^^^
پوری رات وہ سو نہ سکا تھا عجیب حالت تھی دل کی- اسے لگا وہ اب کبھی مسکرا نہ سکے گا- اس نے تو اسے رب سے مانگا تھا پھر وہ عورت___ اسے کیا حق تھا کہ وہ اس کی محبت چھین لے-
"نہیں ابیہا میرے علاوہ کسی کی نہیں ہو سکتی- میں یہ نہیں ہونے دوں گا اس کی خاطر مما کو ناراض کیا نرمین سے منگنی توڑی اب وہ بھی نہ ملی تو ....! نہیں میں اسے حاصل کروں گا.. باۓ ہک اور باۓ کروک-"
وہ سگریٹ پاؤں تلے مسل کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا- حالانکہ یہ اس کے آفس کا وقت نہ تھا- نجانے وہ کہاں جا رہا تھا کھڑکی میں کھڑی مسز ربانی متفکر ہوئیں وھ جانتی تھیں وہ آرام سے نہیں بیٹھے گا مگر اس کے اقدام سے وہ بے خبر تھیں-
‏¥¥¥¥
وہ آج نہ چاہتے ہوۓ بھی کالج جا رہی تھی - گھر رہ کر پھوپھو کی باتیں سننے سے تو بہتر تھا اس نے تلخی سے سوچا اور سر جھٹک کر کمرے سے باہر نکلی- سیڑھیوں پر اس کا ٹکراؤ عمیر سے ہوا وہ اس کا راستہ روکے کھڑا تھا اور اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اسے ہٹا پاتی--
‏"جو میں نے سنا وہ سب سچ ہے کیا؟؟؟" وہ بولا تو اس کی آواز میں اک عجیب سی پھنکار تھی جسے سن کر ابیہا اک بار تو لرزا گئی اب نجانے کیا تماشا ہونے کو تھا..:؟؟؟
_________
"کک-- کیا سنا آ-آپ نے؟؟؟" وہ بوکھلا گئی-
‏"جو تمھارا رشتہ لایا کیسے جانتی ہو تم اسے؟؟؟" وہ درشت لہجے میں اسے مزید ڈرا رہا تھا-
"مم-میں نہیں......" اس کی بات منہ میں ہی رہ گئی عمیر نے بہت زور سے اس کا بازو دبوچا-
‏"ایک بات یاد رکھنا بیا... تم پر صرف میرا حق ہے - میں خاموش ہوں تو صرف اپنی ماں کی وجہ سے انھوں نے کہا ہے کہ تمھیں تمھارے حال چھوڑ دوں بازپرس نہ کروںامید ہے تم وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجاؤ گی ورنہ مجھے ٹھیک کرنا آتا ہے- اوکے بے بی" وہ اس کا گال تھپتھپا کر نکلتا چلا گیا مگر بیا کو مزید توڑ گیا وہ جو اس سے محبت کا دعوے دار تھا بس اتنا ہی جانتا تھا اسے؟؟؟
‏¤¤¤¤¤
وہ گلیوں سے نکل کر مین روڈ پر آچکی تھی گاڑیاں سڑک پر دوڑ رہی تھیں وہ خالی الذہنی سے چلی جا رہی تھی- ایک گاڑی بڑی تیزی سے اس راستے میں حائل ہوئی وہ جو اپنی ہی دھن میں آگے بڑھ رہی چونک گئی بلیک کرولا کا در وا ہوا کوئی باہر نکلا اور تیزی سے اس کے قریب آیا اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی وہ اسے گاڑی میں ڈال چکا تھا-‏
‏¥¥¥¥‏
وہ ہمدان ربانی کو پہچان چکی تھی مگر وہ شدید صدمے تھی یہ آج کا دوسرا شاک تھا جو اسے لگا تھا- وہ اسے اغوا کر کے کیوں لایا تھا وہ سمجھ نہ سکی- وہ اس سے پوچھ بھی نہ سکی وہ بس رو رہی تھی - یہی کام تو اسے آتا تھانا.....!‏
‏^_^
وہ اسے ایک فلیٹ میں لے آیا تھا وہ دوکمروں کا فرنیشڈ فلیٹ تھا- وہ اسے لاونج میں چھوڑ کر کچن کی جانب گیا اور پانی لا کر اس کے سامنے رکھا خود بھی سامنے پڑے صوفے پر براجمان ہوگیا- مگر ابیہا نے کوئی نوٹس نہ لیا-
"پانی پی لیں بیا" وہ جس قدر اپنائیت سے بولا تھا ابیہا تو حیران رہ گئی تھی- مگر یہ وقت ایسا نہ تھا کہ وہ اسکے لہجے الجھتی-
‏"آ-آپ مجھے یہاں کیوں لا--ۓ ہیں" وہ اپنے رونے پہ قابو پاکر بولی-
‏"وہ اصل میں میری مما کی خواہش ہے کہ اب ان کی بہو گھر آجاۓ جلدی سے" اس قدر سنگین حالات میں بھی وہ شرارت پر آمادہ تھا-
‏"تو میں کیا کروں؟؟" وہ سچ میں نہ سمجھ پائی
ہمدان نے ماتھا پیٹا-
‏"آپ ان کو اپنی ساس ہونے شرف بخش دیجیئے-"
آنکھوں میں اب بھی شرارت تھی-
ابیہا کا تو غصے سی برا حال ھو گیا-
‏"آپ ہوش میں ہیں؟؟؟"
‏"نہیں-- نہیں ہوں میں ہوش میں- جب سے پتا چلا کہ آپ کسی اور کی ھونے والی ہیں انگاروں پر لوٹ رہا ھوں میں" وہ یک دم سنجیدہ ہوگیا-
"مم_میں کس کی ہونے جا رہی ہوں؟؟"
‏"اپنے اس کزن عمیر کی" اس کی آواز میں بھی جلن تھی
‏"کس نے کہا؟؟؟" وہ حیران تھی
‏"آپ کی عزیز از جان پھوپھو نے " اس کے چہرے پر ناگواری ابھری - ابیہا نے زور سے آنکھیں میچ لیں "تو یہ بہانہ لگایا آپ نے"
‏"تو پھر کیا؟؟" ابیہا نے بھی کندھے اچکا دئیے وہ اب سنبھل گئی تھی- جبکہ ہمدان غم و غصے سے اسے گھور رہا تھا-
‏___________
‏"تو پھر یہ کہ میں آپ کو کسی اور کا تو ہونے نہیں دے سکتا ورنہ آپ کے ساتھ ساتھ مجھے بھی کنوارہ مرنا ہو گا" اس کی بھوری آنکھوں میں شرارت تھی جبکہ لہجہ سنجیدگی سے بھرپور-
‏"کیوں؟؟؟" وہ الجھی ھوئی لڑکی-
‏'اچھا سوال ہے-" وہ لمحہ بھر کو رکا --
‏"بات یہ ہے بیا کہ میری پہلی نظر کی آخری محبت ہیں آپ اور میں آپ کو کھونا افورڈ نہیں کر سکتا میں چاند تاروں پے تو اختیار نہیں رکھتا مگر خود کو آپ کی خدمت میں وقف کرنے کو تیار ہوں اگر آپ موقعہ دیں تو......!" وہ بولتا ہی چلا جا رہا تھا اور دو سنہری آنکھوں میں حیرت ڈیرہ ڈالے بیٹھی تھی ایسا بھلا کب ہوتا ہے؟؟؟؟
‏"ایسا کیا دیکھ رہی ہیں میں کیا کوئی تھرڈ کلاس عاشق لگ رہا ہوں؟؟؟" وہ جس انداز میں بولا تھا ابیہا کو بے پناہ ہنسی آئی مگر وہ کنٹرول کر گئی- چاہے جانے کا احساس کتنا خوبصورت ہوتا ہے وہ تو ابھی ٹھیک سے محسوس بھی نہ کر پائی تھی اور گال دہک اٹھے تھے-
‏"محترمہ!! آپ کچھ بولیں گی؟؟؟" وہ اس طویل خاموشی سے اکتا کر بولا..
‏"کیا---بولوں؟؟"
‏"آپ شادی کریں گی مجھ سے؟؟"
"یہ سوال اب پوچھنے کا کیا فائدہ؟؟ میں تو اپنی پھوپھو کی بہو......" اس کی منہ میں ہی رہ گئی-
‏"پھوپھو منہ دھو رکھیں اپنا میں آج ہی نکاح کروں گا آپ سے میں کوئی رسک نہیں لے سکتا" 
"وااااااٹ.... آپ ہوش میں ہیں؟؟" وہ دنگ ہی تو رہ گئی تھی-
‏"جی بالکل ہوش میں نکاح خواں اور تین گواہ ارینج کرنے جا رہا ہوں کوئی چالاکی مت دکھائیے گا مجھے-"
وہ انگلی اٹھا کر وارن کر کرتا نکل گیا---
‏\\\\////
"بہت دیر کردی آج بیا نے" شاھد صاحب کو فکر لاحق تھی-
‏"ارے آپ یونہی ٹینشن لیتے ہیں گئی ہوگی اپنی کسی سہیلی کے گھر آوارہ گرد کہیں کی" وہ نخوت سے بولی-
‏"خدا کو مانو بیگم " تم اس سے اتنی بدگمان کیوں ہو؟؟ تمھارے تو سگے بھائی کا خون ہے وہ" انھیں سخت احتراز ہوا-
‏"جو بھائی میرا نہ بن سکا اس کی اولاد سے کیا توقع؟؟؟" ان کے لہجے میں سخت تلخی تھی---^
‏^^^
وہ واپسی پر ایک کامدار سرخ دوپٹہ بھی لے آیا تھا - وہ بالکل خاموش تھی - آج وہ رو بھی نہیں رہی تھی- قبول وحجاب بھی خیروعافیت سے ہو گئے وہ بنا احتجاج خاموش بیٹھی رہی
‏^_^
سب کو رخصت کر کہ آیا تو وہ دوپٹہ اتار کر تہہ کر رہی تھی اپنا دوپٹہ سر پر لے چکی تھی
‏"یہ کیا ابھی تو میں نے اپنی دلہن دیکھی بھی نہیں تھی جی بھر کر" وہ مصنوعی تاسف سے بولا-
‏"پھوپھا جان کو کال کی آپ نے؟؟" وہ دوپٹہ نیڈ پر رکھتے بولی 
"جی‎ ‎ابھی آپ کے سامنے ہی کر لیتے ہیں "
وہ فون نکالتے بولا-- جبکہ وہ لب کاٹتی اسے ہی دیکھ رہی تھی-




شاہد صاحب بے چینی سے ادھر ادھر ٹہل رہے تھے کالج فون کرنے پر پتہ چلا کہ وہ تو آج کالج آئی ہی نہیں ناجانے کہاں ہوگی کس حال میں ہوگی کہیں شکیلہ نے گھر بدر تو نہیں کر دیا؟؟؟؟
وہ لایعنی سوچو میں الجھے تھے جب فون بجا انجان نمبر دیکھ کر کسی انہونی کا احساس جاگا-‏
‏¥¥¥¥‏

جو کچھ کال پر کہا گیا تھا وہ قابل یقین ہی کب تھا؟؟؟ بہت سے دھماکے کیے تھے اس پانچ منٹ کی کال نے- اتنا ظلم ان کے گھر میں ایک یتیم کے ساتھ ہوتا رہا اور وہ بے خبر رہے ان آج پتا چلا تھا ان کی بیوی صرف زبان کی نہیں دل کی بھی کڑوی ہے---‏
‏€€€€€€
"بس ہو گئی تسلی؟؟؟" فون بند کر کے اس نے ابیہا کو دیکھا جو اٹھ کھڑی ہوئی تھی-
‏"مجھے گھر جانا ہے" وہ منمنائی-
‏"یہ بھی گھر ہی ہے" اس کے لہجے میں شرارت تھی
‏"اپنے گھر جانا ہے" اس نے اسے گھورا-
‏"اپنے گھر جانے کے لیے آپ کو چار دن صبر کرنا ہو گا..." وہ حتی الامکان سنجیدہ تھا نہیں نہیں سنجیدہ نظر آرہا تھا-
‏"پھوپھو کے گھر---" وہ بے بسی کی انتہا پر تھی وہ رونے کو بالکل تیار تھی-
"اوکے اوکے آپ رونا نہیں میں چھوڑ آتا ھوں" وہ ہاتھ اٹھا کر بولا اور کیز اٹھا لیں---

‏^_^
"ابیہا کا رشتہ آیا اور تم نے مجھے بتانا بھی گوارا نہ کیا؟؟؟؟" شاھد صاحب بے حد غصہ دکھائی دے رہے تھے مگر وہاں پرواہ کسے تھی؟؟
‏"اس کے کالے کرتوت آپ کو بتا کر پریشان کیوں کرتی ؟؟؟ میں نے انکار کر دیا تھا ان لوگوں کو" وہ ایک لمحہ کو گڑبڑائی‎ ‎ضرور تھیں مگر ان کو قابو پانا آتا تھا-
‏"کس کی اجازت سے انکار کیا تم نے؟؟؟" وہ کی رگیں تن گئیں یعنی کوئی شرمندگی ہی نہیں اس بے حس عورت کو؟؟
‏"مجھے اجازت کی کیا ضرورت ؟؟" انداز میں تنفر کوٹ کوٹ کے بھرا تھا-
‏"تمھیں ضرورت ہے بیگم! وہ تمھاری زرخرید نہیں بھتیجی ہے میرے جگری یار کی بیٹی ہے وہ کیا چلا جاتا اگر تم اس معصوم کو بھی اپنے بچوں کی طرح پال لیتی؟؟؟؟" ان کے لہجے میں گہرا ملال تھا-
"وہ صرف میرے بھائی اور آپ کے دوست کی ہی نہیں آپ کی معشوقہ کی بھی بیٹی ہے اور میرا ظرف اتنا بڑا نہیں" وہ پھٹ پڑیں-‏
‏"مرنے والی مر گئی پر تم بغض دل میں لیے آج بھی وہاں ہی کھڑی ہو تف ہے تم پر" وہ غم و غصے میں لال پیلے ہو رہے تھے
‏"مر کر بھی لاڈلی میرے سر مار گئی میرا کلیجہ جلانے کو" ‏
‏"بسسسسس! " انھوں نے ہاتھ اٹھا کر روکا-‏
‏"تم خوش ہو جاؤ آج کے بعد کوئی ابیہا تمھا کلیجہ نہیں جلاۓ گی وہ لڑکا اس سے نکاح کر چکا ہے- دنیا داری کو پورا کرنے کے لئے اس کو چار دن بعد رخصت کرنا ہے" ان کے لہجے میں شکستگی تھی کسی سے شرمندہ تھے وہ بہت--- مگر جو خدا کو منظور تھا ہونا تو وہی تھا---‏‎ ‎
__________
وہ ابیہا کو واپس چھوڑ گیا تھا اور سب کے سامنے اعلان کر گیا تھا کہ ابیہا اب ابیہا ہمدان ربانی بن چکی ہے.... سب حیرت زدہ تھے - آج تو پھوپھو کو بھی چپ لگ گئی تھی- پھوپھا جان البتہ ہمدان سے مل کر مطمئن ہو گئے تھے شاید انکی دعاوؤں سے ہی ابیہا کو ہمدان جیسا جیون ساتھی ملا تھا- عمیر کا غصے سے برا حال تھا مگر ہمدان کی پرسنالٹی دیکھ کر وہ بھی دب گیا تھا- ان سب سے لاتعلق ابیہا الگ خیالات و وسوسوں کا شکار تھی- نہ جانے اب زندگی اس کے ساتھ کیا کرنے والی تھی-
"پھوپھا جان آ-آپ خفا تو نہیں ہیں نا؟؟ یقین جانے میرا اس کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں میں تو اس کا نام بھی آج جان پائی ہوں -- صبح بھی وہ مجھے زبردستی لے گیا---" تنہائی ملتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی اور اب وہ شاہد پھوپھا کے سامنے بیٹھی اپنے حق میں دلیلیں اور تاویلیں دے رہی تھی- وہ بس اسے دیکھتے رہے وہ بھی چاہتے تھے رخصت ہونے سے پہلے وہ اپنا دل ہلکا کر لے-
‏"میرے پاس تو آپ کے علاوہ کوئی رشتہ بھی نہیں میں آپ کی ناراضگی مول نہیں لے سکتی مجھے کہیں نہیں جانا آپ مجھے معاف کردیں مجھے خود سے دور مت کیجیئے گا- " وہ زاروقطار رو رہی تھی- ان کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں-
‏"بیا بچے! ایسا مت سوچو میں تمھارے لیے بہت خوش ہوں بیٹا... ہمدان کے سنگ تم اپنے تمام دکھ و تکالیف بھول جاؤ گی مجھے یقین ہے" وہ اس کے آنسو صاف کر کے بولے ان کے لہجے میں یقین تھا--
‏"آپ سچ کہہ رہے نا؟؟ آپ ناراض نہیں ہیں؟؟" وہ ابھی تک وہاں ہی اٹکی تھی-
"بالکل" وہ مسکرا کر بولے تو بیا بھی مسکرا دی چراغوں کو مات دیتی دو چمکدار خوبصورت آنکھیں ... آنسووؤں بھری... امید بھری.... خوشی کی انوکھی چمک لیے.......وہ آنکھیں بھی آج مسکرائی تھیں-
‏"مما.....مما.. ایک بات کہنی ہے..." ناشتے کرتے ہمدان ہاتھ روک کر بولا- مسز ربانی نے آنکھ کے اشارے سے کہا "بولو" اور نظر پھر سے اخبار پر ..... مگر دھیان پورا بیٹے پر تھا اور بیٹا بھی جانتا تھا یہ بات...
"آہممم...... میں نے کل ابیہا سے نکاح کر لیا ہے چار دن تک رخصتی کروانے جانا ہے...." وہ ایسے بولا جیسے کوئی فائل سائن کروانے لایا ہو....
‏"تو؟؟؟؟" وہ بھی اس کی ماں تھیں اتنا اندازہ تو انھیں بھی تھا کہ کل دن جو وہ غائب تھا تو یقینا کوئی تخریب کاری کر کے آیا تھا-
‏"آپ کا ساتھ جانا ضروری ہے نا مام... پلیز انکار مت کیجیئے گا..." وہ جلدی سے بولا جیسے یقین ہو آگے سے انکار ہی ہونا ہے--
"ڈیڈ لائن بہت جلدی کی دی تم نے ہمدان‎ ‎‏! میں اور تم اکیلے تو نہیں جاسکتے ؟؟" ان کے لہجے میں نا خوشی تھی نا غم ٹھنڈا ٹھار لہجہ....
"اس کی آپ فکر نہ کریں آج شام تک کارڈز بٹ جائیں گے" وہ جوس پی کر بولا..
"اوکے ڈن " وہ کندھے اچکا کر بولیں-
‏"تھینکس مام لو یو.... آپ جب اپنی بہو کو دیکھیں گی نہ تو تمام گلے شکوے بھول جائیں گی" وہ ان کے ماتھے پر بوسا دیتے ہوۓ بولا یہ اس کی بہت پرانی عادت تھی-
‏"ہوپ سو" اس ساری گفتگو میں وہ پہلی بار مسکرائیں
‏"پازیٹو مام اوکے میں چلتا ہوں بہت کام ہیں چار دن بعد میری رخصتی ہے اور کسی کو فکر ھی نہیں " وہ مصنوعی منہ بناتا کوٹ اٹھا کر نکل گیا جب کہ وہ کھل کر مسکرا اٹھیں - بیٹے سے ناراض ضرور تھیں لاتعلق نہیں....
دونوں طرف تیاریاں جاری تھیں شاہد صاحب نے ہال بک کروا لیا تھا کارڈ چھپوا کر بانٹ دئیے گئے تھے ایک دن بعد رخصتی تھی مگر عمیر کا کچھ اتا پتا نہ تھا اس کا فون بھی بند تھا..... سب پریشان بھی تھے اس کے لیے مگر سب کو پتہ تھا کہ وہ کیوں غائب ہے اس لیے سب چپ تھے ابیہا نے بھی شکر کیا ورنہ اسے تو ڈر تھا کہ وہ جانے کیا کر بیٹھے..
‏_______
آج وہ ہمدان ربانی کے لیے سجائی گئی تھی اس کا ذہن عجیب کشمکش میں تھا- سب کچھ اتنا اچانک ہورہا تھا وہ قدرت کی پلاننگ پر حیران تھی - جو سامان اس کے سسرال سے آیا تھا وہ اتنا نفیس اور قیمتی تھا کہ مائرہ و سائرہ جل کر راکھ ھو گئیں- ان کا بس چلتا تو سب لے کر غائب ہو جاتیں-- ابیہا کے لیے وائٹ فراک آیا تھا جس پر ریڈ کلر کا نیٹ لگا تھا اور اس نیٹ پر اس قدر دلکش پھول لگاۓ تھے کہ کسی چمن کا گمان گزرتا سر پر ریڈ کلر کا دوپٹہ تھا اور مہارت سے کیا گیا میک اپ اس کو چار کی جگہ آٹھ چاند لگا گیا تھا بارات آ گئی تھی دلہا وائیٹ شیروانی پر ریڈ کلہ سجاۓ شہزادوں کی آن بان لیے اپنی شہزادی کے پہلو میں ٹک گیا تھا- چاند سورج بھی ان کے سامنے کچھ نہیں تھے -- مائرہ جو ہر ہینڈسم پر لٹو ہو جاتی تھی ھمدان کو دیکھ کر تو مر ہی مٹی مگر افسوسسسسس..
‏"مانا کہ آپ بہت خوبصورت ہیں مگر اب ایسی بھی کیا مغروری کہ آپ ہمیں دیکھیں بھی نہ؟؟" ہمدان کی سرگوشانہ اواز ابھری- جو اتنی مدھم تھی کہ وہ بمشکل سن پائی مگر خاموش رہی-
ہمدان بھی مسکرا کر باقی خواتین کی جانب متوجہ ہو گیا جو اس کا انٹرویو لینے کو بے تاب تھیں--
‏^_^
‏"امی آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟؟ ادھر آئیں سب کے ساتھ انجواۓ کریں یہ منحوس تو آج دفع ہو ہی جاۓ گی بالآخر" سائرہ نخوت سے بولی
‏"ایسے مت کہو سائرہ وہ تو بہت معصوم ہے میں ہی سمجھ نہ پائی" وہ رنجیدہ تھیں اور سائرہ حیران بلکہ بہت حیران تھی
‏"یہ آپ کیا کہہ رھی ہیں؟؟؟"
‏"کچھ نہیں عمیر کا کچھ پتہ ہے کہاں ہے؟؟؟" دل میں اپنی غلطی مان لینا آسان ہوتا ہے مگر اعتراف کر کہ معافی طلب کرنا بہت ہی مشکل کام ہے.....
‏"جی اپنے دوست کی طرف ہے فکر نہ کریں آ جاۓ گا" وہ تسلی دے کر نکل گئی-
‏"کاش میں عمیر کی مان لیتی"
‏¥¥¥¥
سب نے ابیہا کو اپنی دعاوؤں میں رخصت کیا پھوپھو کی بھیگی آنکھیں دیکھ کر اسے حیرت تو ھوئی مگر "دستور دنیا" سمجھ کر اس نے حیرت کو جھٹک دیا
پھوپھا جان کے گلے لگ ھو رو پڑی تھی-
‏"بس بیٹا اب مت رونا صدا خوش رہو آباد رہو..." وہ اپنے آنسو صاف کر کے مسکرا کر بولے
‏"آپ بھی اپنا خیال رکھیئے گا" اک آخری نگاہ سب پر ڈال کر وہ ہمدان کی سنگت میں گاڑی میں بیٹھ گئی- اگلا سفر جیسا بھی ہوتا ابیہا کو پرواہ نہ تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اسکا "اللہ" بڑا مہربان ھے....
‏@@@@@
‏"یو نو واٹ بیا جب میں نے آپکو پہلی بار دیکھا تھا آپ تب بھی رو رہی تھی اور آج بھی دیکھ رہا ھوں آپ رونے کو تیار ہیں مگر میں آپ کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر بے چین ہوجاتا ہوں اس لیے آج کے بعد کبھی نہ رونے کا وعدہ کریں" وہ اسکو ڈائمنڈ رنگ پہناتے ہوۓ بولا لہجہ شہد آگہیں تھا ہاتھ اس کے سامنے پھیلاۓ وہ دست سوال تھا- ابیہا نے زور سے آنکھیں میچیں تمام فاسد خیالات جھٹک دئیے اور اس کا ہاتھ تھام لیا وہاں صرف پیار نہیں تھا عزت و مان بھی تھا-
‏"تمھاری زندگی کے تمام دکھوں کی عمر اتنی ہی تھی بیا... اب میں ہوں تم ہو اور بہت سی خوشیاں جو ہماری منتظر ہیں -بس آگے بڑھو اور تھام لو انہیں....." ابیہا کی آنکھی جگمگا اٹھیں اور اس کی آنکھوں کی روشنی کے سامنے تمام لائٹس مدھم پڑ گئیں تھیں-
‏"بے شک دکھوں کی عمر لمبی ہوتی ہی مگر انھیں بھی اک دن مرنا ہوتا ہے"
‏¥¥¥¥
اور اسی رات اس شہر کے ایک مشہور بار میں عمیر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ڈرنک کر رہا تھا وہاں گونجتے قہقہے جتنے بلند تھے اتنے ہی بے جان تھے......
انھیں دنیا و مافیہا کا کچھ ہوش نہ تھا .... شاید یہی زندگی اب عمیر کا مقدر تھی اور قدرت کا انتقام بھی....
ختم شد

Post a Comment

0 Comments