ہم بڑے کیوں ہو گئے؟


ہم بڑے کیوں ہو گئے؟

بچپن میں 1 روپے کی پتنگ کے پیچھے 2 کلو میٹر تک بھاگتے تھے ...
نہ جانے كتنی چوٹیں لگتی تھیں ...
اور وہ پتنگ بھی ہمیں بہت دوڑاتی تھی ...
آج پتہ چلتا ہے،
دراصل وہ پتنگ نہیں تھی؛
ایک چیلنج تھا...
خوشیوں کو حاصل کرنے کے لئے دوڑنا پڑتا ہے ...
کیونکہ خوشیاں دکانوں پر نہیں ملتیں ...
شاید یہی زندگی ہے ... !!!
جب بچپن تھا تو جوانی ایک خواب تھا ...
جب جوان ہوئے تو بچپن ایک خوبصورت یاد بن گیا ... !!
جب گھر میں رہتے تھے، آزادی اچھی لگتی تھی ...
آج آزادی ہے، پھر بھی گھر جانے کی جلدی رہتی ہے ... !!
 اسکول میں جن کے ساتھ جھگڑے تھے، آج ان کو ہی انٹرنیٹ پہ تلاش کرتے ہیں ... !!
خوشی کس میں ہوتی ہے، یہ پتہ اب چلا ہے ...
بچپن کیا تھا، اس کا احساس اب ہوا ...
جب ہم اپنے شرٹ میں ہاتھ چھپاتے تھے اور لوگوں سے کہتے پھرتے تھے دیکھ سکتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ جادو سے ہاتھ غائب کر دیے..
جب ہمارے پاس چار رنگوں سے لکھنے والی ایک قلم ہوا کرتی تھی اور ہم سب کے بٹن کو ایک ساتھ دبانے کوشش کیا کرتے تھے...
جب ہم دروازے کے پیچھے چھپتے تھے تاکہ اگر کوئی آئے تو اسے ڈرا سکیں...
 جب آنکھ بند کر سونے کا ڈرامہ کرتے تھے تاکہ کوئی ہمیں گود میں اٹھا کے بستر تک پہنچا دے...


سوچا کرتے تھے کی یہ چاند
ہماری سائیکل کے پیچھے پیچھے کیوں چل رہا ہے...
 فریج آہستہ سے بند کر کے یہ جاننے کی کوشش کرتے تھے کے اس روشنی کب بند ہوتی ہیں...
بچپن میں سوچتے ہم بڑے
کیوں نہیں ہو رہے؟
اور اب سوچتے ہم بڑے کیوں ہو گئے؟

Post a Comment

0 Comments